کیا ’نہی عن المنکر‘ علماء کی ذمہ داری ہے؟

سوال نمبر:4215
علمائے کرام خطاب کے آخر میں کہتے ہیں ’و ما علینا الا البلاغ‘ کہ ہماری ذمہ داری بس پہنچانا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ برائی کو دیکھو تو ہاتھ سے روکو، زبان سے روکو، اگر یہ بھی نہیں‌ کر سکتے تو دل میں برا سمجھو۔ کیا علماء کی ذمہ داری بس ’البلاغ‌‘ ہے، ’نہی عن المنکر‘ نہیں؟

  • سائل: آفتاب انورمقام: منڈی بہاؤالدین
  • تاریخ اشاعت: 19 مئی 2017ء

زمرہ: امور سیاست

جواب:

حدیث مبارکہ میں کہ حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عید کے دن نماز سے پہلے جس شخص نے سب سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا وہ مروان تھا، ایک شخص نے مروان کو ٹوکا اور کہا کہ نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، مروان نے جواب دیا کہ وہ دستور اب متروک ہو چکا ہے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا اس شخص پر شریعت کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کر دیا۔ اس نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے:

مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

تم میں سے جو شخص خلاف شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اس کی اصلاح کرے اور اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کا رد کرے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

  1. مسلم، الصحيح، 1: 69، رقم: 49، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 10، رقم: 11088، مصر: مؤسسه قرطبة
  3. أبي داود، السنن، 4: 123، رقم: 4340، دار الفکر

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں برائی کی ہاتھوں کے ساتھ اصلاح کرنے اور طاقت نہ رکھنے کی صورت میں زبان سے اس کا رد کرنے کا فرمایا گیا ہے۔ یہ بات برحق ہے کہ ہر برائی کو ہاتھ سے روکنے کے لیے طاقت اور اختیار کا ہونا ضروری ہے، لہٰذا جہاں تک کوئی برائی علماء کے ہاتھوں قابل اصلاح ہو تو علماء کا فرض بنتا ہے کہ اس کی اصلاح کریں۔ اس کے علاوہ جن برائیوں کی روک تھام کرنا حکومت اور اداروں کا کام ہے، اُن کے لئے آواز بلند کرنا، عوام کو آگاہ کرنا اور اُن تک پہنچانا ہی علماء کا فرض ہو گا کیونکہ ہاتھ سے روکنے کی طاقت اور اختیار علماء کے پاس نہیں ہے۔ ہر ایک اپنی ذمہ داری کو جوابدہ ہو گا۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ أَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَهُ رَاعِيَةٌ عَلَی أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْهُمْ وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَی مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ أَلَا فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.

حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ لہٰذا امام لوگوں کی طرف سے نگران ہے اور اس سے اُن لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو اُس کے ماتحت تھے اور ہر آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اُس سے اُس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کے لیے نگران ہے اور اُس سے اُن کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اُس سے اُس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے او رہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

  1. بخاري، الصحيح، 6: 2611، رقم: 6719، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 3: 1459، رقم: 1829، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

(اس حدیث مبارکہ کو محدثین کی کثیر تعداد نے نقل کیا ہے)

لہٰذا علماء کا برائی کے خلاف آواز بلند کرنا اور عوام کا علماء کو طاقت میں لانا اخلاقی فرض ہے تا کہ برائیوں کا خاتمہ ہو سکے اور معاشرے کی اصلاح بہترین انداز میں ہو۔ اگر عوام ووٹ دیتے وقت گلی محلہ، بجلی وگیس کے میٹر اور برادری ازم کو ترجیح دیں اور علماء سے برائی ہاتھ سے روکنے کی خواہش رکھیں تو یہ محض ایک خواب ہو سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟