عقیقہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

سوال نمبر:4212
السلام علیکم مفتی صاحب! عقیقہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

  • سائل: کاشف رحمان خانمقام: اٹک
  • تاریخ اشاعت: 19 مئی 2017ء

زمرہ: احکام و مسائلِ عقیقہ

جواب:

صاحبِ استطاعت والدین پر اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا سنت ہے۔ حضرت سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَی.

عقیقہ لڑکے کے ساتھ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور تکلیف کو اس سے دور کرو۔

  1. بخاري، الصحيح، 5: 2082، رقم: 5154، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 4: 214، رقم: 17907، مصر: مؤسسة قرطبة
  3. ترمذي، السنن، 4: 97، رقم: 1515، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ أُمِّ کُرْزٍ الْکَعْبِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.

حضرت ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں جو کفایت کرنے والی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 6: 422، رقم: 27409
  2. أبي داود، السنن، 3: 107، رقم: 2842، دار الفکر
  3. دارمي، السنن، 2: 111، رقم: 1966، بيروت: دار الکتاب العربي

ساتویں روز عقیقہ کرنا بھی سنت مبارکہ ہے:

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ کُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّی.

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقے کی وجہ سے مرہون (گروی رکھا ہوا) ہوتا ہے۔ اس کے ساتویں روز جانور ذبح کیا جائے، سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔

أبي داود، السنن، 3: 106، رقم: 2838

اگر گائے، بھینس اور اونٹ میں حصہ ڈال کر عقیقہ کرنا چاہیں تو بھی عقیقہ ہو سکتا ہے۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں:

وکذٰلک اِن أراد بعضهم العقيقه عن ولد ولدله من قبل.

اسی طرح اگر قربانی کے حصوں میں بعض افراد پہلے پیدا ہونیوالی اولاد کے عقیقہ کا ارادہ کر لیں تو جائز ہے۔

  1. علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 5: 72، دار الکتاب العربي
  2. الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، 5: 304، دار الفکر
  3. ابن عابدين شامي، ردالمحتار، 6: 326، دار الفکر للطباعة بيروت

معلوم ہوا، اگر ایک بڑے جانور میں کچھ لوگ قربانی کے حصے ڈالیں اور کچھ عقیقہ کے تو جائز ہے یعنی بڑے جانور میں عقیقہ ایک نہیں سات بکریوں کے برابر ہوگا۔

اہل حدیث مسلک کے عالم دین، فتاوی ستاریہ میں لکھتے ہیں:

ایک گائے شرعاً سات بکریوں کے قائم مقام ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک گائے تین لڑکوں اور ایک لڑکی یا صرف سات لڑکیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔

فتاوی ستاريه، 3: 3

گائے سات بکریوں کے قائم مقام ہے۔ سات لڑکیوں یا دو لڑکوں اور تین لڑکیوں کی طرف سے عقیقہ ہو سکتا ہے۔

فتاوی ستاريه، 4: 64 بحواله فتاوی علماء حديث، 13: 192، از علی محمد سعيدی جامعه سعيديه خانيوال

لہٰذا عقیقہ کرنا سنت ہے اور لڑکے کے لئے دو بکرے یا دو دنبے یا بڑے جانور گائے، بھینس اور اونٹ میں دوحصے اور لڑکی کے لئے ایک بکرا یا دنبہ یا بڑے جانور میں ایک حصہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟