Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اصل سے زیادہ اوقاتِ کار بتا کر اضافی تنخواہ لینا جائز ہے؟

کیا اصل سے زیادہ اوقاتِ کار بتا کر اضافی تنخواہ لینا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: مجاہد رضا خان       مقام: لاہور/پاکستان

سوال نمبر 4205:
السلام علیکم! معزز مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ گورنمنٹ کی طرف سے دفتری اوقات کے بعد لیٹ بیٹھنے کی صورت میں کنوئینس چارجز 150 روپے روزانہ کے ملتے ہیں لیکن قواعد کے مطابق لیٹ بیٹھنے کا وقت کم از کم ایک گھنٹا ہونا چاہیے۔ ہوتا ایسے ہے کہ کبھی پندرہ منٹ اور کبھی آدھا گھنٹہ لیٹ‌ بیٹھنا پڑتا ہے اور اس دوران محکمے کی بس نکل چکی ہوتی ہے۔ اگر دس منٹ بھی لیٹ ہو جائیں تو پرائیویٹ بس میں جانا پڑتا ہے۔ اکثر دوست جب کنوینس چارجز کا بل بھرتے ہیں تو مختلف دنوں‌ میں سوا گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹا اور کبھی دو گھنٹے لکھ دیتے ہیں تاکہ کم از کم وقت کی شرط پوری ہو جائے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ شرط غلط ہے کہ ایک گھنٹہ کم از کم بیٹھا جائے کیونکہ جتنا کام ہو گا اتنا ہی بھیٹھنا ہو گا اور دوسرا دس منٹ بھی لیٹ ہو جانے کی صورت میں پرائیویٹ بس میں‌ کرایہ خرچ کر کے جانا پڑتا ہے۔ گزارش ہے کہ بتائیں کہ کیا بل میں زیادہ وقت لکھنا اور 150 روپے کے حساب سے پیسے لے لینے میں گناہ تو نہیں ہے؟

جواب:

اس بات میں‌ تو کوئی شک نہیں‌ کہ 10 یا 15 منٹ اضافی وقت دیکر گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ بتانا دھوکہ دھی، جھوٹ‌ اور کرپشن ہے اور اس کی اجرت بھی بلاشبہ ناجائز ہے۔ اگر کام صرف دس منٹ کا ہے تو اسے ڈیوٹی ٹائم میں‌ کرنے کی کوشش کریں، اگر اضافی وقت دینا پڑ جائے تو جتنا وقت دیا ہے وہی نوٹ‌ کریں اور اسی کی اجرت لیں، کیونکہ جھوٹ یا دھوکہ سے کمایا گیا روپیہ پیسہ جائز نہیں۔ اگر کم سے کم وقت کی شرط غلط ہے تو انتظامیہ سے بات کر کے اس میں ترمیم کروانے کی کوشش کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-05-24


Your Comments