Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا دورِ حاضر میں غريب سادات کرام کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

کیا دورِ حاضر میں غريب سادات کرام کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

موضوع: زکوۃ  |  مصارفِ زکوٰۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: حسن مير قادري       مقام: فرانس

سوال نمبر 4197:
مفتي صاحب ايک اہم مسئلہ کے بارے ميں دريافت کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل سادات کرام ميں سے اگر کوئي غريب ہو تو اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہيں يا نہيں؟ جبکہ اس کي مدد کا کوئي متبادل راستہ موجود نہ ہو۔

جواب:

علامہ ابن عابدین شامي رحمۃ اﷲ عليہ نے بني ہاشم کے بارے ميں جو بيان کيا ہے اس کا مفہوم يہ ہے:

عبد مناف نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے چوتھے اَبّ ہيں انہوں نے چار بيٹے چھوڑے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمش پھر ان ميں سے سوائے عبد المطلب کے باقي تين کي نسل ختم ہو گئي، عبد المطلب کے بارہ (12) بيٹے تھے ان ميں سے جس کي بھي نسل مسلمان ہو اور غريب ہو اس کو زکوٰۃ ديني جائز ہے سوائے: عباس، حارث، اور ابو طالب کي اولاد کے، ابو طالب کي اولاد حضرات علي، جعفر اور عقيل رضی اللہ عنہما ہيں۔ ابوعصمہ رحمۃ اﷲ عليہ نے ابو حنيفہ رحمۃ اﷲ عليہ سے روايت کي ہے کہ ہمارے زمانے ميں بني ہاشم کو زکوٰۃ دينا جائز ہے کيونکہ ان پر يہ (زکوٰۃ، عشر، فطرانہ، فديہ) جائز نہ ہونے کي وجہ خمس (مال غنيمت کا پانچواں حصہ جو ان کو ملتا) تھا جو کہ آج کل نہيں ملتا۔ امام ابو حنيفہ کے نزديک بني ہاشم کے امير غريب بني ہاشم کو زکوٰۃ دے سکتے ہيں، امام ابو يوسف اس کے خلاف ہيں۔ صحيح تر قول يہ ہے کہ ہاشمي کو زکوٰۃ دينا درست نہيں۔

ابن عابدين، رد المحتار، 2: 350، بيروت: دار الفکر

مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوا عبد مناف کے بيٹے ہاشم سے چلنے والي نسل بني ہاشم ہيں ان ميں سے جو مسلمان ہو اور مستحق بھي ہو، زکوٰۃ لے سکتا ہے اور جن پر خمس سے حصہ ملنے کي وجہ سے زکوٰۃ جائز نہيں تھي وہ بھي جائز ہو گئي کيونکہ آج کے زمانے ميں نہ اس دور کي طرح جنگيں رہيں نہ ہي آئے روز مال غنيمت کي آمدن رہي اس لئے آج کے دور ميں غريب بني ہاشم کو اگر ضرورت پڑے تو زکوٰۃ دي جاسکتي ہے۔ اس ميں کوئي حرج نہيں، کيونکہ ممانعت کي جو وجہ تھي وہي ختم ہو گئي۔ لہٰذا حضرت علي رضی اللہ عنہ کي فاطمي و غير فاطمي اولاد يا ان کے علاوہ جس جس پر بھي خمس کي وجہ سے زکوٰۃ جائز نہيں تھي ان ميں سے اگر کوئي غريب ہو اور اس کي مدد کا کوئي متبادل راستہ بھي نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ، عشر اور صدقہ فطر دے سکتے ہيں۔ ليکن احترام کي خاطر ان کو بتانے کي بجائے تحفۃً پيش کيا جائے تو بہتر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2017-04-01


Your Comments