Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا انشورنس کمپنی میں کام کرنا جائز ہے؟

کیا انشورنس کمپنی میں کام کرنا جائز ہے؟

موضوع: بیمہ و انشورنس

سوال پوچھنے والے کا نام: حافظ فرقان       مقام: لاہور

سوال نمبر 4191:
السلام علیکم مفتی صاحب! کیا انشورنس کمپنی میں کام کرنا جائز ہے؟

جواب:

مضاربت، مشارکہ، اجارہ، مرابحہ، استصناع وغیرہ کے اصولوں پر کام کرنے والی انشورنس کمپنیوں، بینکوں اور اداروں میں جن میں سودی لین دین نہیں ہوتا ان میں ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم مکمل طور پر سودی لین دین کرنے والے یا سودی شعبہ جات رکھنے والے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں سود لکھنے، گواہی دینے یا کام کرنے والے ملازمین کوشش کریں کہ اپنی ذمہ داریاں ان بینکوں یا شعبہ جات میں لگوا لیں جو کسی حد تک غیرسودی ہیں یا ہونے کا تاثر دیتے ہیں، یا پھر متبادل ملازمت تلاش کرلیں۔ لیکن جب تک کوئی دوسری ملازمت یا غیرسودی شعبہ نہیں ملتا تب تک موجودہ ملازمت کو اضطراری یا مجبوری کی صورت میں جاری رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ ملازمت چھوڑ کر بیروزگار ہوجائیں اور کہیں اس سے بھی بڑا حرام کھانے پر مجبور ہو جائیں۔ نئی ملازمت کی تلاش میں جتنا عرصہ لگے، سودی لین دین سے نفرت اور اس کے خاتمے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔ لہٰذا الجھن کا شکار ہونے کی بجائے متبادل ملازمت کی کوشش کریں۔ جب کوشش اخلاص کے ساتھ ہوگی تو اللہ پاک مدد بھی فرمائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2017-03-30


Your Comments