Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر مسبوق بقیہ نماز میں کوئی بھول کرے تو سجدہ سہو کرے گا؟

اگر مسبوق بقیہ نماز میں کوئی بھول کرے تو سجدہ سہو کرے گا؟

موضوع: نماز  |  مسبوق کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد نزاکت       مقام: اٹک

سوال نمبر 4109:
کیا مسبوق امام کے سلام پھیرنے کے بعد کوئی بھول کرے تو سجدہ سہو کرے گا یا نہیں؟

جواب:

نماز باجماعت میں دوسری، تیسری یا چوتھی رکعت میں شامل ہونے والا شخص (یعنی مسبوق) اپنی شمولیت سے پہلے یا بعد میں امام سے ہونے والی بھول کی وجہ سجدہ سہو امام کے ساتھ ہی کرے گا اور اگر بقیہ نماز میں بھول ہوئی تو بھی آخر میں سجدہ سہو کرے گا، خواہ امام کے ساتھ بھی پہلے کسی بھول کی وجہ سے سجدہ سہو کر چکا ہو۔ اگر امام سے بھی کوئی بھول ہوئی لیکن مسبوق نے سجدہ سہو نہ کیا اور بقیہ نماز میں کوئی اور بھول ہو گئی تو دو بار سجدہ سہو نہیں کرے گا یعنی دو بار سلام پھیر کر دو دو سجدے نہیں کرے گا۔ آخر میں ایک بار ہی سلام پھیر کر دو سجدے کرے گا یعنی جو سجدہ سہو کا طریقہ ہے۔

(والمسبوق يسجد مع إمامه مطلقا) سواء کان السهو قبل الاقتداء أو بعده (ثم يقضي مافاته) ولو سها فيه سجد ثانيا.

اور مسبوق (جس کی امام سے کوئی رکعت رہ گئی) مطلقاً اپنے امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا خواہ اقتداء سے پہلے امام بھولا یا بعد۔ پھر فوت شدہ (بقیہ) نماز کی قضاء کرے اور اگر بعد والی نماز میں بھول گیا تو دوبارہ سجدہ کرے۔

علاؤ الدين حصکفي، الدر المختار، 2: 82، بيروت: دار الفکر

علامہ ابن عابدین شامی مذکورہ بالا کی شرح میں لکھتے ہیں:

(ولو سها فيه) أي فيما يقضيه بعد فراغ الإمام يسجد ثانيا لأنه منفرد فيه والمنفرد يسجد لسهوه، وإن کان لم يسجد مع الإمام لسهوه ثم سها هو أيضا کفته سجدتان عن السهوين، لأن السجود لايتکرر.

اور اگر امام کے فارغ ہونے کے بعد مقتدی رہ جانے والی نماز قضاء کرتے ہوئے بھول گیا تو دوبارہ اکیلا سجدہ سہو کرے۔ اور اگر امام کے ساتھ اس مسبوق نے سجدہ سہو نہیں کیا تھا، پھر وہ بھی امام کی طرح بھول گیا اسے دو بار سجدہ سہو کی بجائے ایک بار سجدہ سہو کرنا کافی ہے کیونکہ سجدہ (سہو) میں تکرار نہیں ہوتا۔

ابن عابدين شامي، رد المحتار، 2: 82، بيروت: دار الفکر

والمسبوق يسجد لسهوه فيما يقضي ولو سها إمامه ولم يسجد المسبوق معه وسها هو فيما يقضي يکفيه سجدتان.

اور مسبوق جو بعد میں قضاء کرے اور بھول جائے تو سجدہ سہو کرے۔ اور اگر اس کا امام بھول گیا اور مسبوق نے اس کے ساتھ سجدہ نہیں کیا اور باقی رہ جانے والی نماز میں مسبوق بھول گیا تو (بعد میں) اس کا سجدہ دونوں کے لئے کافی ہے یعنی آخر میں ایک بار ہی سجدہ سہو کرنا کافی ہے۔

الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1: 129، بيروت: دارالفکر

اَئمہ کے درج بالا اقتباسات سے ثابت ہوا کہ مسبوق بقیہ نماز میں ہونے والی بھول کی وجہ سے آخر میں سجدہ سہو کرے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-01-19


Your Comments