کیا ایامِ مخصوصہ میں عورت نیاز کا کھانا بنا سکتی ہے؟

سوال نمبر:4083
کیا ناپاک عورت نیاز کا کھانا بنا سکتی ھے؟

  • سائل: حسرت علیمقام: بھارت
  • تاریخ اشاعت: 21 جنوری 2017ء

زمرہ: طہارت   |  غسل   |  حیض   |  نفاس

جواب:

عورت کی ناپاکی کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں: جنابت اور حیض و نفاس۔ اگر ناپاکی حالتِ جنابت کی وجہ سے ہے تو بہتر ہے کہ جتنا جلد ہوسکے غسلِ جنابت کرے، غسلِ جنابت میں بلاوجہ تاخیر کرنا ناپسندیدہ ہے اور اتنی تاخیر کرنا کہ ایک نماز کا وقت گزر جائے حرام اور سخت گناہ ہے۔ تاہم وہ وضو کر کے کھانا بنا سکتی ہے یا دیگر ضروری امور (جیسے گھر کے کام کاج، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ) انجام دے سکتی ہے۔ اس کی دلیل سیدنا ابوھریرہ رضي اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَيْنَ کُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ کُنْتُ جُنُبًا فَکَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَکَ وَأَنَا عَلَی غَيْرِ طَهَارَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اﷲِ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں مدینہ منورہ کے کسی راستے میں ملے جب کہ یہ جنبی تھے۔ میں آپ سے ایک طرف ہو گیا۔ جا کر غسل کیا اور حاضر بارگاہ ہو گیا۔ فرمایا کہ اے ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ عرض گزار ہوا کہ میں جنبی تھا لہٰذا بغیر طہارت کے آپ کی بارگاہ میں بیٹھنا میں نے نا پسند کیا۔ فرمایا کہ سبحان اللہ! مومن کبھی ناپاک نہیں ہوتا۔‘‘

  1. بخاري، الصحيح، 1: 109، رقم: 279، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 1: 282، رقم: 371، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس میں اس کا جواز پایا جاتا ہے کہ غسل جنابت کو اس کے واجب ہونے کے اول وقت میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔۔۔ اوراس کا بھی جواز ہے کہ جنبی شخص (غسل سے پہلے بھی) اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔

عسقلانی، ابنِ حجر، فتح الباری، 1: 391

لیکن افضل یہی ہے کہ جنبی کو غسلِ جنابت میں جلدی کرنی چاہیے۔

زمانہٴ جاہلیت اور خاص کر یہودیوں کے معاشرے میں عورت، ایامِ مخصوصہ میں بہت نجس چیز سمجھی جاتی تھی، اور ایامِ مخصوصہ میں اسے ایک کمرے میں بند کردیتے تھے۔ نہ وہ کسی چیز کو ہاتھ لگاسکتی تھی، نہ کھانا پکاسکتی تھی اور نہ کسی سے مل سکتی تھی۔ لیکن اسلام کے معتدل نظام نے ایسی کوئی چیز باقی نہیں رکھی۔ شریعتِ اسلامیہ میں حیض و نفاس کی وجہ سے صادر ہونے والی ناپاکی میں عورت نماز، روزہ، طوافِ کعبہ، مسجد میں جانے، مباشرت کرنے اور تلاوتِ کلامِ پاک کے علاوہ تمام امور انجام دے سکتی ہے۔ اس کے لیے باقی تمام امور جائز ہیں، یہاں تک کہ ذکراللہ اور دُرود شریف اور دیگر دُعائیں پڑھ سکتی ہے۔ لہٰذا حیض و نفاس کے دنوں میں عورت کے لیے کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور دیگر گھریلو خدمات بجا لانا جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ:

قَالَ لِي رَسُولُ اﷲِ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَکِ لَيْسَتْ فِي يَدِکِ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں سے مجھے فرمایا: مصلیٰ (جائےنماز) اٹھا کر مجھے دے دو، میں نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔

  1. مسلم، الصحيح، 1: 244، رقم: 298، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 6: 114، رقم: 24876، مصر: مؤسسة قرطبة
  3. أبي داود، السنن، 1: 68، رقم: 261، دار الفکر

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے بعض لوگوں کو مغالطہ ہوا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حالت حیض میں مسجد سے جائے نماز اٹھا کر لانے کا حکم فرمایا جبکہ ایسا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ہی تشریف فرما تھے اور جائے نماز گھر میں پڑا ہوا تھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حجرہ مبارک سے جائے نماز اٹھا کر دینے کا فرمایا تو انہوں کا عرض کی میں تو حائضہ ہوں۔ اگلی حدیث مبارکہ سے اس بات کی وضاحت ہو رہی ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اﷲِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَکِ لَيْسَتْ فِي يَدِکِ فَنَاوَلَتْهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! مجھے ایک کپڑا اٹھا دو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔

  1. مسلم، الصحيح، 1: 245، رقم: 299
  2. أبي عوانة، المسند، 1: 262، رقم: 912، بيروت: دار المعرفة

اس سے ثابت ہوا کہ ایامِ مخصوصہ میں عورت نیاز کا کھانا تیار کرسکتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟