نماز میں یکسوئی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

سوال نمبر:401
نماز میں یکسوئی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  عبادات

جواب:

نماز میں داخل ہوتے ہی نمازی کے دل و دماغ میں ایسے وسوسے اور خیالات آنے لگتے ہیں کہ نماز میں یکسوئی نصیب نہیں ہوتی۔ امام غزالی نے نماز میں شیطانی خیالات، وسوسوں سے بچنے اور خشوع و خضوع برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل تدابیر بیان فرمائی ہیں :

* انسان جب اذان کی آواز سنے تو دل میں تصور کرے کہ مجھے میرے خالق و مالک اور غفور و رحیم کی بارگاہ سے حاضری کا بلاوا آیا ہے اب میں ہر کام پر اس حاضری کو ترجیح دیتا ہوں لہٰذا جس کام میں بھی مشغول ہو اسے چھوڑ کر نماز کی تیاری کرے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُO

النور، 24 : 37

’’(اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گیo‘‘

* نماز میں یکسوئی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ موذن کی صدا سننے کے بعد نمازی کا دل بار بار اپنے مالک کی حاضری کی طرف متوجہ ہو اور خوش ہو کہ مالک نے یاد فرمایا ہے اور میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنی تمام روداد عرض کروں گا۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگوں گا۔ شوق و محبت سے قیام، رکوع اور سجود کے ذریعے دلی راحت اور سکون کے ذریعے اپنے تمام غموں اور صدماتِ ہجر و فراق کا ازالہ کروں گا۔ میں محبوب حقیقی کی حاضری کے لیے طہارت کرتا، اچھے کپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر حاضر ہوتا ہوں کیونکہ میرے مالک کا حکم ہے :

يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ

الاعراف، 7 : 31

’’اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو۔‘‘

پس بندے کو چاہئے کہ بارگاہِ خداوندی کی عظمت کا بار بار تصور کرتے ہوئے سوچے کہ اتنی بڑی بارگاہ میں کیسے حاضری دوں گا۔

* نماز میں یکسوئی حاصل کرنے کے لیے مکمل نماز کے معانی ذہن نشین کر لیے جائیں اور اس کا مفہوم لفظاً لفظًا ازبر کر لیا جائے مثلاً لفظ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ زبان سے ادا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی بڑائی، پاکیزگی اور تقدس کا تصور دل و دماغ میں گھر کر جائے اور نمازی پر یہ خیال حاوی ہو جائے کہ وہ سب سے بڑے بادشاہ کے دربار میں دست بستہ حاضر ہے جو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ وَبِحَمْدِکَ سے اس کی حمد و ثنا کی طرف نگاہ جاے کی وہی ذات ساری تعریفوں کے لائق ہے۔ علی ھذا القیاس ساری نماز کے ایک ایک لفظ پر نمازی کو آگاہی ہو تو نماز میں یکسوئی نصیب ہوتی ہے۔

* نمازی نماز میں یہ تصور کرے کہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے شاید اس کے بعد زندگی مہلت نہ دے، بس یہ سوچ نمازی کو باقی چیزوں سے ان شاء اﷲ اجنبی و بیگانہ کر کے اپنے رب کریم کی طرف متوجہ کر دے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟