نقد رقم پر زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نصابِ‌ شرعی سونے کو شمار کیا جائے یا چاندی کو؟

سوال نمبر:4003
السلام علیکم! شریعت میں ساڑھے سات تولے سونا اور ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برابر مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ عملی طور چاندی کی قیمت بیالیس ہزار جبکہ سونے کی قیمت اڑھائی لاکھ بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نصابِ‌ شرعی سونے کو شمار کیا جائے گا یا چاندی کو؟ قربانی کے لیے صاحبِ نصاب کون ہے؟

  • سائل: محمد بدرالزمانمقام: نیو دہلی
  • تاریخ اشاعت: 28 دسمبر 2016ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

جس دور میں سونے اور چاندی کو زکوٰۃ کا نصاب بنایا گیا اس وقت پاکستانی ساڑھے سات تولے (93.75 گرام) سونے اور پاکستانی ساڑھے باون تولے (656.25گرام) چاندی کی قدر تقریباً برابر تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں کمی ہوتی گئی۔ ایک عرصہ تک سونے کی طرح چاندی بھی اصل زر اور زرِ ضمانت کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

دورِ حاضر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق آ گیا ہے اور چاندی بطور زر یا زرِ ضمانت کے طور پر بھی مستعمل نہیں ہے، صرف سونا ہی زرِ ضمانت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ لہٰذا عصر حاضر میں چاندی کے علاوہ نقدی یا مال ودولت کا نصاب سونے کی قیمت کے مطابق بنایا جائے گا۔ اگر کسی کے پاس کچھ سونا کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہے اور سب کو ملا کر ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔ جبکہ قربانی کے لیے قرآن وحدیث میں زکوٰۃ کی طرح نصاب کا تعین نہیں کیا گیا یہی وجہ ہے کہ قربانی کے وجوب میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ کچھ فقہاء کرام نے زکوٰۃ کی طرح صاحب نصاب ہونے والے پر قربانی واجب قرار دی ہے، اگر قربانی کے وجوب کے لیے صاحب نصاب ہونا شرط رکھی جائے تو آج کے دور میں سونے کو ہی نصاب کا معیار بنایا جائے گا کیونکہ چاندی کے مطابق نصاب بنا کر قربانی کرنا بہت مشکل ہے۔ اور کچھ فقہاء کرام نے وسعت وآسانی رکھنے والے عاقل وبالغ مسلمان مرد و زن پر قربانی واجب قرار دی ہے، یہی موقف درست ہے جیسا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ حدیث مبارکہ یہ ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس میں طاقت ہو اور پھر وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہمارے مصلے کے پاس نہ آئے۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 321، رقم: 8256، مصر: مؤسسة قرطبة
  2. ابن ماجه، السنن، كتاب الأضاحي، باب الأضاحي واجبة هي أم لا، 2: 1044، رقم: 3123، بيروت: دارالفكر

لہٰذا ہمارے نزدیک ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ وسعت وآسانی رکھنے والے شخص پر قربانی واجب ہے یعنی جس کے پاس گھریلوں ضروریات کے علاوہ اس قدر مال موجود ہو کہ وہ قربانی کا جانور خرید سکے تو اس پر قربانی واجب ہے۔ قربانی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے بلکہ دس ذی الحج سے بارہ ذی الحج کی مغرب تک مال ہونے کی صورت میں قربانی واجب ہو گی جبکہ وہ شخص جانور خرید سکے۔ اگر مال بالکل آخری وقت میں آیا کہ جانور خریدنا ہی ممکن نہ ہو تو گناہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟