کیا ایک ہی وقت میں‌ ایک سے زائد وظائف پڑھے جا سکتے ہیں؟

سوال نمبر:4001
السلام علیکم! کیا تمام وظائف ایک ہی وقت میں‌ پڑھے جا سکتے ہیں؟

  • سائل: فرحان جمیلمقام: عمان
  • تاریخ اشاعت: 27 ستمبر 2016ء

زمرہ: وظائف

جواب:

کچھ وظائف اور دعائیں ایسی ہیں جن کو مخصوص اوقات میں پڑھنے کی فضیلت شارع علیہ السلام نے بیان کی ہے۔ جیسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر فرض نماز کے بعد وظائف کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

مَنْ سَبَّحَ اﷲَ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ ثَـلَاثًا وَثَـلَاثِينَ وَحَمِدَ اﷲَ ثَـلَاثًا وَثَـلَاثِينَ وَکَبَّرَ اﷲَ ثَـلَاثًا وَثَـلَاثِينَ فَتْلِکَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.

’’جس شخص نے ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمدﷲ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا تو یہ ننانوے کلمات ہو گئے اور سو کا عدد پورا کرنے کے لیے کہا لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے، خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔‘‘

مسلم، الصحيح، 1: 418، رقم: 597، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

جمعہ کے دن سورۃ الکھف کی تلاوت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُورَۃَ الْکَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنْ النُّوْرِ مَا بَيْنَ الجُمُعَتَيْنِ.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف کو پڑھا، اس کے لئے دو جمعوں کے درمیان نور کو روشن کر دیا جائے گا۔‘‘

حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 2: 399، رقم: 3392، بيروت: دار الکتب العلمية

اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے مخصوص سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے:

عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ لَا يَنَامُ حَتَّی يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ وَتَبَارَکَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْکُ.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرما ہونے سے پہلے سورۂ الم التنزیل السجدہ اور سورۂ ملک پڑھا کرتے تھے۔‘‘

ترمذي، السنن، 5: 165، رقم: 2892، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

مذکورہ احادیث میں جن مقدس کلمات اور سورتوں کو مخصوص اوقات میں پڑھنے کے فیوض و برکات بیان کیے گئے ہیں، ان کلمات اور سورتوں کو کسی اور وقت میں پڑھنا بھی کارِ ثواب ہے لیکن درج بالا اوقات میں پڑھنے کی زیادہ فضیلت ہے۔ لہٰذا مسنون اوراد و وظائف کو جب بھی پڑھا جائے انسان ثواب کا مستحق ہوتا ہے، تاہم مخصوص اوقات میں پڑھنا زیادہ برکت کا باعث ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟