Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا طلاق کے بعد عورت بچوں‌ کی نگہداشت کرسکتی ہے؟

کیا طلاق کے بعد عورت بچوں‌ کی نگہداشت کرسکتی ہے؟

موضوع: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: عتیق احمد       مقام: انڈیا

سوال نمبر 3997:
السلام علیکم مفتی صاحب! میں‌ نے غصے میں‌ اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں‌ تین طلاقیں دیں، پھر والدین کے دباؤ پر واپس لے لیں۔ میں نے سنا ہے کہ ایک ہی مجلس میں‌ جتنی طلاقیں‌ دی جائیں‌ وہ ایک ہی شمار ہوتی ہیں۔ پھر میں‌ نے شبے ک وجہ سے بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں‌ کی اور اس کو بطور ملازمہ کے اپنے گھر میں رہنے دے رہا ہوں۔ میری دو بیٹیاں‌ ہیں جن کی وہ نگہداشت کرتی ہیں۔ آپ سے راہنمائی درکار ہے کہ کیا بیوی کو بطور ملازمہ گھر میں‌ رکھنا جائز ہے؟

جواب:

اہلِ سنت کے چاروں آئمہ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیھم اس بات پر متفق ہیں کہ نکاح کے بعد انسان کے پاس تین طلاقوں کا حق ہوتا ہے‘ اس حق کو وہ چاہے ایک مجلس استعمال کرلے یا الگ الگ مجالس میں، ایک لفظ سے تین طلاق دے یا جدا جدا لفظوں کے ساتھ، واقع ہوجاتی ہیں اور تین طلاقوں کے بعد ازروئے شرع رجوع ممکن نہیں ہے۔

طلاق کے تینوں حق اکٹھے استعمال کرنا اگرچہ سخت ناپسندیدہ اور قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف ہے، لیکن بیک وقت دی ہوئی تین طلاق جمہور امت کے نزدیک واقع ہوجاتی ہیں۔ تین طلاقوں سے ’طلاقِ مغلظہ‘ واقع ہوتی ہے جس سے میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ عورت بچوں کی نگہداشت کرسکتی ہے جس کے اخراجات شوہر کے ذمہ ہوں گے۔ وہ بطور ملازم کے نہیں، بلکہ ماں کی حیثیت سے بچوں کی دیکھ بھال کرے گی، جب تک کہ وہ کسی دوسری جگہ شادی نہ کر لے یا بچوں کے پاس رہنے سے انکار نہ کردے۔ تاہم وہ سابق شوہر کے لیے اجنبی ہے، اس سے پردہ کرے گی۔

ایک مجلس کی تین طلاقوں کے حکم کے تفصیلی مطالعہ کے لیے ملاحظہ کیجیے:

ایک مجلس میں‌ دی گئی تین طلاق کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-07-28


Your Comments