ای میل کے ذریعے دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3991
السلام علیکم مفتی صاحب! میں‌ طلاق سے متعلق راہنمائی لینا چاہتا ہوں۔ اگر شوہر اپنی ای میل سے بیوی کی ای میل ایڈریس پر میل کرے، جس میں تحریر ہو کہ ’مَیں‌ مسمیٰ زید، سکنہ 123، بقائمِ‌ ہوش و حواس اپنی بیوی مسمات زاہدہ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ کیا اس طلاق کے بعد رجوع کی کوئی صورت ہے؟ کیا اس طرح‌ ای میل کے ذریعے طلاق دینا شریعت کی رو سے درست ہے؟ اگر بیوی نے ای میل پڑھی نہیں یا اسے ملی ہی نہیں تو پھر طلاق کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ اس ای میل کے بعد وہ تین سال تک اکٹھے نہیں‌ رہے۔ براہِ‌ مہربانی راہنمائی فرما دیں۔ شکریہ

  • سائل: ملک اشرفمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 31 اگست 2016ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

جواب:

اگر زید نے بقائمِ ہوش و حواس تین بار طلاق لکھ کر ای میل کی ہے تو طلاقِ مغلظہ واقع ہو گئی ہے، جس کے بعد رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

طلاق زبان سے بول کر دی جائے یا بذریعہ خط، ای میل، ایس ایم ایس یا پیغام رسانی کے کسی بھی جدید و قدیم ذرائع سے ارسال کیجائے‘ واقع ہو جاتی ہے، تاہم خط یا ای میل کے ذریعے دی گئی طلاق میں شوہر کا اقرار ضروری ہے۔ وقوع طلاق کے لیے بیوی کا طلاق نامہ پڑھنا ضروری نہیں۔ طلاقِ مغلظہ ہو جانے کے بعد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا جائز نہیں۔ اگر شوہر نے طلاق دے دی اور بیوی کو موصول نہ ہوئی یا شوہر نے اسے بےخبر رکھا تو اکٹھے رہنے کی صورت میں بیوی گناہگار نہ ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟