اگر شوہر طلاق کا حق بیوی کو تفویض کر دے تو کیا شوہر کے پاس یہ حق ختم ہو جاتا ہے؟

سوال نمبر:3989
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے شوہرنے گزشتہ سال مجھے طلاق دی، جس کے دو دن بعد ہی انہوں نے رجوع کر لیا۔ لیکن اس کے بعد میرے شوہر نے ہمیشہ یہی بولا کے اب سے طلاق کا اختیار میرے پاس ہے، لیکن میں نے ہمیشہ اس اختیار سے انکار کیا اور کہا کہ طلاق صرف آپ دے سکتے ہیں میں نہیں۔ اب کچھ دن پہلے ہماری لڑائی ہوئی جس میی میں نے ان سے طلاق مانگی لیکن وہ یہی بولتے رہے کہ تجھے اختیار ہے تم طلاق دے دو۔ میں نے بار بار انکار کیا اور جب ہماری بحث بڑھتی گئی میں نے بولا کے ٹھیک ہے اختیار میرے پاس ہے تو میں آپ کو طلاق دے رہی ہوں۔ ہم نے اس کے بعد پھر رجوع کر لیا۔ لیکن کچھ دن بعد ہماری لڑائی دوبارہ ہوئی جس میں میرے شوہر نے مجھے طلاق دی لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ بولے کہ طلاق کا اختیار ان کا نہیں میرے پاس ہے، اس لیے ہماری طلاق نہیں ہوئی۔ میں نے بحث کی کہ میں نے کبھی اختیار مانا ہی نہیں اس لیے میں طلاق نہیں دے سکتی بلکہ آپ مجھے طلاق دے چکے ہیں۔ ہماری اس بات پر بحث چلتی رہی اور تنگ آکر میں نے بولا کے میرے پاس اختیار نہیں ہے، لیکن آپ کے لیے میں بول رہی ہوں کہ میں نے آپ کو طلاق دی۔ اب ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا کے ہماری طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی ہماری راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

  • سائل: فلزہ رضوانمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 03 اگست 2016ء

زمرہ: طلاق   |  تفویض طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

جواب:

پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ جب شوہر طلاق کا حق بیوی کو تفویض کر دے تو شوہر کے پاس طلاق کا حق ختم نہیں ہوتا، باقی رہتا ہے اور بیوی کے پاس بھی آ جاتا ہے۔ آپ کے بقول آپ کو طلاق کا حق تفویض کرنے کے بعد دومرتبہ آپ کے شوہر نے آپ کو طلاق دی اور دو مرتبہ آپ نے اسے طلاق دی، پھر عدت کے دوران آپ رجوع بھی کرتے رہے۔ یاد رہے کہ رجوع کی گنجائش پہلی اور دوسری طلاق میں ہوتی ہے، ایک یا دو طلاق دینے کے بعد دورانِ عدت رجوع اور عدت کے بعد نکاح کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ مگر آپ کے تحریر کے مطابق آپ لوگوں نے تین بار طلاق دی ہے، جس کے بعد طلاقِ مغلظہ واقع ہوگئی ہے۔ طلاقِ مغلظہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.

پھر اگر اس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کر لے، پھر اگر وہ (دوسرا شوہر) بھی طلاق دے دے تو اب ان دونوں (یعنی پہلے شوہر اور اس عورت) پر کوئی گناہ نہ ہوگا اگر وہ (دوبارہ رشتہ زوجیت میں) پلٹ جائیں بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ (اب) وہ حدودِ الٰہی قائم رکھ سکیں گے، یہ اﷲ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں جنہیں وہ علم والوں کے لئے بیان فرماتا ہے۔

البقره، 2: 230

تین طلاق دینے کے بعد میاں اور بیوی ایک دوسرے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں، الاّیہ کہ کسی اور مرد کے ساتھ نکاح وہمبستری کے بعد خدا نخواستہ پھر وہ عورت بیوہ یا مطلقہ ہو جائے تو ایسی صورت میں اگریہ دونوں پھر باہمی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟