ترکِ نماز پر قرآن وحدیث میں کیا حکم وارد ہے؟

سوال نمبر:394
ترکِ نماز پر قرآن وحدیث میں کیا حکم وارد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  عبادات

جواب:

نماز جہاں ہر عمل سے افضل ہے وہاں ترکِ نماز سب سے بڑا گناہ ہے، جس طرح نماز انسان کو نیکی اور سعادت کی انتہا بلندیوں پر لے جاتی ہے اسی طرح ترکِ نماز مسلمان کو مشرک تک بنا دیتی ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَO

الروم، 30 : 31

’’اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤ۔‘‘

یہ وعید سن کر ہر تارک الصلوٰۃ مسلمان کو لرز جانا چاہیے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ہی کو مسلمان اور کافر کے درمیان حدِ فاصل قرار دیا۔

حضرت بُریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ تَرَکَ الصَّلَاةَ فَقَدْ کَفَرَ.

ابن حبان، الصحيح، 4 : 323، رقم : 1463

’’جس نے (جان بوجھ) کر نماز ترک کی اس نے (گویا) کفر کیا۔‘‘

ایک اور مقام پر اسی مفہوم کی توضیح اس طرح فرمائی گئی ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِی بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَکَهَا فَقَدْ کَفَرَ.

ابن حبان، الصحيح، 4 : 305، رقم : 1454

’’یقینا ہمارے اور ان (کفار) کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے پس جس نے نماز کو ترک کیا (گویا) اس نے کفر کیا (عہد سے منہ موڑ لیا)۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟