اگر سسر بہو کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو اس کے بیٹے کے نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3935
اگر کسی عورت کا سُسر اُس کے جسم کے کسی حصے کو بدنیتی سے چھوئے، اسے اکیلے پا کر اس کے بدعملی کے ارادے سے اس کے قریب ہو، مزید یہ کہ وہ اُس سے اکثر یہ بات کہتا ہو کہ تم بہت پیاری ہو میرا بیٹا تمہارے قابل نہیں۔ بعد میں وہ اس حرکت سے انکاری ہو جاتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ایسی صورت میں‌ بہو کا نکاح باقی رہتا ہے یا وہ اپنے شوھر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے؟

  • سائل: برہان حفیظمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 16 جون 2016ء

زمرہ: حرمت مصاہرت   |  زنا و بدکاری

جواب:

آئمہ احناف کے نزدیک اگر سسر، بہو کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو وہ اس کے بیٹے کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔

اگر بہو بھی سسر کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے اور یہ سارا عمل اس کی رضامندی سے ہو رہا ہے تو اس کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اسے الگ کر دے۔ لیکن اگر اس میں بہو کی رضامندی شامل نہیں ہے تو اسے سسر سے الگ مکان میں رکھا جائے تاکہ آئندہ ایسے صورت حال پیش نہ آئے اور رشتوں کا تقدس قائم رہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

اگر سسر بہو سے اظہارِ خلوت کرے تو بیٹے کے نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟