کیا گناہوں‌ کے صدور سے نکاح‌ ٹوٹ‌ جاتا ہے؟

سوال نمبر:3924
السلام علیکم مفتی صاحب! میں‌ نے ساری زندگی گناہوں‌ میں‌ گزاری ہے۔ میں‌ نے بےشمار مرتبہ زنا کیا، حرام کمایا اور کھایا، دوسروں‌ کو دھوکہ دیا الغرض ایسے گناہوں‌ کا انبار ہے۔ اب میں‌ پریشان اور خوف زدہ ہوں۔ مجھے نا تو توبہ کا طریقہ معلوم ہے اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ‌ میرے گناہ معاف کریں‌ گے یا نہیں۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ توبہ کا کیا طریقہ ہے؟ کیا ان گناہوں‌ کے سبب میری بیوی مجھ پر حرام تو نہیں‌ ہوگئی؟ جو مال حرام میں‌ نے کمایا اس کا کیا حکم ہے؟ براہ مہربانی راہنمائی فرما دیں۔ شکریہ

  • سائل: راحیلمقام: یو ایس اے
  • تاریخ اشاعت: 01 جون 2016ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

اپنے گناہوں پر شرمندہ و پشیمان ہونا اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عہد کرنا توبہ ہے۔ توبہ انسان کی تجدیدِنو اور اصلاحِ باطن سے عبارت ہے۔ اس کے ذریعے نافرمانی اور غلط تصرفات کے نتیجے میں دل کے بگڑے ہوئے توازن کو بحال کیا جاتا ہے۔ یہ حق کی طرف پیش رفت ہے، بلکہ زیادہ مناسب الفاظ میں یہ اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب سے اس کے لطف و کرم اور اس کی بازپرس سے اس کی رحمت وعنایت کی طرف پیش قدمی ہے۔ توبہ کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ یہ گناہ کے احساس کے نتیجے میں انسان کی خوداحتسابی سے عبارت ہے۔دوسرے لفظوں میں غیرذمہ دارانہ طورپرزندگی بسرکرنے سے انکار کرکے نفس کے سامنے ڈٹ جانے، گناہوں سے بچنے اور ان کے ارتکاب کا خیال بھی دل میں نہ آنے دینے کا نام توبہ ہے۔ توبہ گمراہی اور انحراف کے بعد انسان کے اپنے مالک کی طرف لوٹنے کا نام ہے، یہی وجہ ہے کہ بخاری و مسلم میں مروی ایک حدیث میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

‘‘جب اللہ کا کوئی بندہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ سے اُس شخص کی بہ نسبت زیادہ خوش ہوتے ہیں جو کسی بیابان میں اپنی اونٹنی پر ہو وہ اونٹنی اس سے بھاگ جائے، اس کا کھانا اور پانی بھی اسی اونٹنی پر ہو اور وہ مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے آکر لیٹ جائے۔اسی دوران اچانک وہ اونٹنی اس کے پاس آکر کھڑی ہو جائے، وہ اس کی مہار پکڑ لے اور خوشی کی شدت سے کہے: ’’اے اللہ! آپ میرے بندے ہیں اور میں آپ کا پروردگار ہوں۔‘‘یعنی خوشی کی شدت سے اس سے الفاظ آگے پیچھے ہوجائیں۔

توبہ کا طریقہ یہی ہے کہ انسان گذشتہ زندگی میں ہونے والے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے سے بچنے کا پختہ عزم کرے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے  ’کیا کبیرہ گناہ توبہ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں؟‘ ملاحظہ کیجیے اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تصانیف خَيْرُ الْعَوْدَة فِي الْخَشْيَةِ وَالتَّوْبَةِ (خشیتِ اِلٰہی اور توبہ و اِستغفار) اور توبہ و استغفار کا مطالعہ کیجیے۔

توبہ کی چند شرائط حسبِ ذیل ہیں:

  1. اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق میں سے کسی حق سے ہے، تو سب سے پہلے حقدار کو اس کا حق ادا کرکے اس سے معذرت کرنا اور معافی مانگنا ضروری ہے۔
  2. گناہ کا دوبارہ ارتکاب نہ کرنے کاپختہ عزم کرنا۔
  3. گناہ اور توبہ کے درمیان زیادہ وقت نہ گزرنے پائے،یعنی جس قدر ممکن ہو جلد توبہ کرے

گناہوں کے سرزد ہونے سے نکاح نہیں ٹوٹتا، تاوقیکہ انسان اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام جان کر دائرہ اسلام سے خارج نہ ہوجائے۔ یعنی حرامِ قطعی کو حلال کہنے سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ بقول آپ کے آپ نے مال حرام کمایا ہے، اگر اس کی واپسی ممکن ہے تو جن لوگوں کا حق ہے ان کو لوٹا دیں۔ اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی مانگیں، وہ معاف کرنے پر قادر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟