Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مطلقہ غیرمدخولہ سے دوبارہ نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

مطلقہ غیرمدخولہ سے دوبارہ نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

موضوع: طلاق   |  غیر مدخولہ کی طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: عبدالرحمن       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 3914:
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ نکاح کے بعد رخصتی ہوئی اور نہ ہی ہم بستری اور طلاق ہوگئی۔ کیا دوبارہ نکاح‌ کے لیے حلالہ ضروری ہے؟ یا بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟

جواب:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : إذَا طَلَّقَ الْبِكْرَ وَاحِدَةً فَقَدْ بَتَّهَا ، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے باکرہ کو ایک طلاق دی تو وہ بائنہ ہو جائے گی اور اگر اسے دخول سے پہلے تین طلاقیں دیدے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔

ابن أبي شيبة، المصنف، 4: 66، رقم:17853، الرياض: المكتبة الرشد

غیرمدخولہ کی طلاق کے بارے فقہائے احناف کا مؤقف ہے:

فَإِنْ فَرَّقَ الطَّلَاقَ بَانَتْ بِالْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ وَالثَّالِثَةُ) وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ إيقَاعٌ عَلَى حِدَةٍ إذَا لَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ كَلَامِهِ مَا يُغَيِّرُ صَدْرَهُ حَتَّى يَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ فَتَقَعُ الْأُولَى فِي الْحَالِ فَتُصَادِفُهَا الثَّانِيَةُ وَهِيَ مُبَانَةٌ.

اگر شوہر نے غیر مدخولہ بیوی کو الگ الگ تین طلاقیں دیں تو پہلی طلاق سے بائن ہو جائے گی، دوسری اور تیسری واقع نہیں ہوں گی۔ مثلاً شوہر یوں کہے کہ تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، ان میں سے ہر ایک الگ الگ طلاق واقع کر رہا ہے بشرطیکہ شوہر نے اپنے آخری کلام میں کوئی ایسی چیز نہ ذکر کی ہو جو صدر کلام کو بدل دے حتیٰ کہ وقوع اسی پر موقوف ہو جائے، چنانچہ پہلی طلاق فوراً واقع ہوجائے گی اب دوسری طلاق اس حال میں دی کہ نکاح ٹوٹ چکا تھا۔

  1. مرغيناني، الهداية، 1: 240، المکتبة الاسلامية
  2. ابن همام، فتح القدير، 4: 55، بيروت: دار الفکر
  3. الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1: 373، دار الفکر

رخصتی، دخول یا خلوتِ صحیحہ (میاں بیوی کی ایسی ملاقات جس میں انہیں مباشرت کا مکمل موقعہ میسر ہو اور کوئی امر مانع نہ ہو) سے پہلے طلاق اور نئے نکاح کی دو صورتیں ہیں:

  1. اگر شوہر نے الگ الگ تین بار طلاق دی تو پہلی ایک طلاق واقع ہوگی اور نکاح فوراً ختم ہوجائے گا۔ باقی دونوں طلاقیں فضول ہوں گی، کیونکہ پہلی طلاق سے  نکاح ختم ہوچکا ہے اور وقوع طلاق کا محل ہی نہیں رہا۔ نکاح کے ختم ہونے کے بعد عورت آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اگر پہلے والا شخص ہی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے تو تجدیدِ نکاح کے بعد دونوں اکٹھے رہ سکتے ہیں۔
  2. اگر شوہر نے تینوں طلاقیں اکٹھی دیں، جیسے ’ تجھے تین طلاق‘ یا ’میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں‘ تو پھر تینوں اکٹھی واقع ہوں گی۔ اس صورت میں پہلے والا شخص اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کر لے اور بعد میں بیوہ یا مطلقہ نہ ہوجائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-05-15


Your Comments