Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - میوزک تھیراپی سے علاج کروانا کیسا ہے؟

میوزک تھیراپی سے علاج کروانا کیسا ہے؟

موضوع: موسیقی/قوالی

سوال پوچھنے والے کا نام: علی رضا       مقام: ملتان، پاکستان

سوال نمبر 3911:
السلام علیکم محترم! گانے بجانے تو اسلام میں حرام ہیں، اور میں یہ گناہ چھوڑ چکا ہوں۔ لیکن جاننا چاہتا ہوں کہ میوزک تھیراپی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یعنی ایسا میوزک جس میں انسانی آواز یا شاعری نہ ہوں اور ماہر نفسیات اسکو استعمال کر کے ذہن کو سکون دلانے کا دعویٰ کرتےہیں؟ کیا یہ تھوڑا بہت سننا جائز ہے؟‌ کیونکہ انکا کہنا ہے کہ اس سے ذہن تازہ ہو جاتا ہے اور نیند کے لیئے بہتر ہے؟

جواب:

غنا، موسیقی یا میوزک مباحات فطرت میں سے ہے۔ شریعتِ مطاہرہ نے ہر موسیقی کو حرام قرار نہیں دیا۔ حمد، نعت، غزل، قوالی، یا دیگر المیہ، طربیہ اور رزمیہ اصناف شاعری میں فن موسیقی کو استعمال کرنا جائز ہے۔ اگر کلام شرک و الحاد پر مبنی اور فحش و لغو ہو یا اس میں اخلاقی قباحت کا کوئی پہلو ہو تو میوزک جائز نہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا کسی خاص موقع پر گانا گانا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-05-15


Your Comments