کیا مُعاہِد کی اولاد اس کے وعدے کی پابند ہوگی؟

سوال نمبر:3898
اگر ایک بھائی اپنے بھائی کو رضا نامے پر دستخط کر دے کہ میں آپکے شادی کے خرچے کے ادھار کا ذمہ دار ہوں، اور بعد میں وہ ذمہ دار فوت ہو جائے تو کیا وہ دوسرا بھائی اس کے بچوں یعنی اپنے بھتیجو سے شادی کا خرچہ مانگ سکتا ہے؟

  • سائل: شاہدمقام: سعودی عرب
  • تاریخ اشاعت: 27 اپریل 2016ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

بصورت مسئلہ ایک بھائی کا دوسرے سے معاہدہ کوئی ہبہ یا وصیت نہیں، بلکہ وعدہ تھا، جو مُعاہِد کی وفات کے ساتھ ختم ہوگیا۔ مُعاہِد کی اولاد اس وعدے کے پابند نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟