Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر خلوت صحیحہ سے قبل طلاق ہوجائے تو عدت کا کیا حکم ہے؟

اگر خلوت صحیحہ سے قبل طلاق ہوجائے تو عدت کا کیا حکم ہے؟

موضوع: خلوت صحیحہ   |  طلاق   |  عدت کے احکام   |  مطلقہ (طلاق یافتہ) کی عدت

سوال پوچھنے والے کا نام: عبدالرحمٰن       مقام: لاہور

سوال نمبر 3897:
اگر رخصتی اور ازدواجی تعلق سے پہلے طلاق ہوجائے تو عدت اور دوسرے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا.

اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو۔

الْأَحْزَاب، 33: 49

اس لیے خلوت صحیحہ (نکاح کے بعد میاں بیوی کی ایسی ملاقات جس میں مباشرت کرنے میں کوئی امر مانع نہ ہو) سے پہلے طلاق واقع ہوجانے کی صورت میں عدت شمار نہیں کی جائے گی۔ طلاق کے بعد جب چاہیں دوسرا نکاح کر سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-04-21


Your Comments