اگر والدہ بہو کے ساتھ رہنے پر تیار نہ ہوں‌ تو بیٹے کے لیے کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3893
السلام علیکم! میرے ایک دوست خاندانی ناچاقیوں کی وجہ سےاپنی بیوی (جو اس کی چچازاد بھی ہے) سےعرصہ چھ سال الگ رہ رہے ہیں۔ جن کے دو بچے بھی ہیں، جو باپ کے پاس ہیں۔ دوست کی والدہ بہو کو ساتھ رکھنے پر تیار نہیں۔ دوست اپنی والدہ کو چھوڑ کر الگ نہیں رہناچاہتا۔ اس صورتحال میں‌ قرآن و سنت کا کیا حکم ہے اور اس کا بہترحل کیا ہے؟

  • سائل: شفیق الرحمانمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 26 اپریل 2016ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

ہماری رائے میں اس مسئلے کے حل کی ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ دونوں میاں بیوی مل کر والدہ کی منت سماجت کریں اور انہیں ساتھ رہنے پر راضی کریں تاکہ مل جل کر زندگی بسر ہو، یہی بہترین حل ہے۔

اگر ایسا ممکن نہیں تو دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ میاں بیوی الگ مکان میں رہیں، لیکن دونوں میاں بیوی والدہ کی خدمت برابر جاری رکھیں۔ خواہ والدہ انہیں برا بھلا کہیں، لیکن وہ والدہ کی باتوں کو نظرانداز کر کے ان کے احترام اور خدمت میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟