Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - دھمکی کی نیت سے دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

دھمکی کی نیت سے دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

موضوع: طلاق   |  تعلیق طلاق   |  طلاق رجعی

سوال پوچھنے والے کا نام: عظمیٰ       مقام: لندن

سوال نمبر 3887:
السلام علیکم مفتی صاحب! اگر شوہر لڑائی کے دوران اپنی بہن سے کہے کہ تم گواہ ہو جاؤ میں اسے طلاق دیتا ہوں، اور بعد میں‌ وضاحت کرتے ہوئے بتائے کہ میں‌ نے طلاق نہیں‌ دی تھی بلکہ ڈرانے کے لیے دھمکی دی تھی، تو اس کے بارے میں‌ کا حکم ہے؟ کیا طلاق واقع ہوگئی؟ اس کے علاوہ بھی کئی بار شوہر نے طلاق کو مشروط کیا اور اب میاں‌ بیوی کا کہنا ہے کہ نا تو انہیں‌ شرائط یاد ہیں اور نا ہی تعداد، اس صورت میں‌ طلاق کا کیا حکم ہوگا؟ شوہر سے جب بھی طلاق کی یا شرائط کی وضاحت مانگی گئی تو اس نے اسے دھمکی بتایا۔ براہ مہربانی تفصیلی راہنمائی فرمائیں۔

جواب:

اگر شوہر نے بہن کو گواہ بناتے ہوئے کہا کہ ’تم گواہ ہو جاؤ میں اسے طلاق دیتا ہوں‘ تو طلاقِ رجعی واقع ہو گئی۔ اگر وہ کہتا ’میں طلاق دوں گا‘ تو جب تک نہ دیتا تب تک واقع نہ ہوتی۔

قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ مذکورہ شخص نے طلاق کے لفظ کو مذاق بنا لیا ہے اور اسے دھمکی کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور امر نہیں ملتا۔ اگر بطور میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو احکامِ باری تعالیٰ کے مطابق رہیں ورنہ الگ ہو جائیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ.

طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے، پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

البقره، 2: 229

اور مزید فرمایا:

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلاَ تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لَّتَعْتَدُواْ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلاَ تَتَّخِذُواْ آيَاتِ اللّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ.

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنی زوجیّت میں) روک لو یا انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، اور انہیں محض تکلیف دینے کے لئے نہ روکے رکھو کہ (ان پر) زیادتی کرتے رہو، اور جو کوئی ایسا کرے پس اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا، اور اﷲ کے احکام کو مذاق نہ بنا لو، اور یاد کرو اﷲ کی اس نعمت کو جو تم پر (کی گئی) ہے اور اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے اور دانائی (کی باتوں) کو (جن کی اس نے تمہیں تعلیم دی ہے) وہ تمہیں (اس امر کی) نصیحت فرماتا ہے، اور اﷲ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اﷲ سب کچھ جاننے والا ہے۔

البقره، 2: 229

لہٰذا ایک طلاق تو واضح ہے جو واقع ہوچکی ہے، اس کی عدت کے دوران رجوع کر لیں یا عدت گزرنے کے بعد تجدید نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ باقی مشروط طلاقیں اور ان کی شرائط اگر یاد نہیں ہیں تو اس سے توبہ کریں اور آئندہ کے لیے اس طرز عمل کو بدلیں۔ ہر وقت کی دھمکیاں آپ کی اور بچوں کی زندگی پر منفی اثر مرتب کریں گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-05-14


Your Comments