کیا برائی بھی اللہ کے چاہنے سے وقوع پذیر ہوتی ہے؟

سوال نمبر:3886
السلام علیکم! ’وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ‘ "تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اللہ نہ چاہے" اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہمارے برے خیالات جو بعد میں برے عمل کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں بھی اللہ کے چاہنے سے پیدا ہوتے ہیں؟

  • سائل: محمد ذیشان علویمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 12 مئی 2016ء

زمرہ: ایمان باللہ

جواب:

کائناتِ ارض و سماء میں اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت کے بغیر کوئی امور انجام نہیں پاتا۔ ایک معمولی پتہ نہیں گرتا مگر اس کے علم میں ہوتا ہے۔ انسان اگلے لمحے کیا کرنے والا ہے؟ اس کی خبر االلہ تعالیٰ کو ازل سے ہے، اسی علمِ الٰہی کا نام تقدیر ہے۔ اللہ کے علم نے انسان کو فعل پر مجبور نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اوامر اور نواہی کے احکام جاری فرما کر انسان کو اختیار دیا ہے کہ خیر کو اپنا لے یا شر کو، ایمان لائے یا کفر کرے۔ ارشاد ہے:

وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ.

اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے۔

الْكَهْف، 18: 29

دوسرے مقام پر فرمایا:

أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِO وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِO وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِO

کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیں؟ اور (اسے) ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)؟ اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے۔

الْبَلَد، 90: 8 تا 10

قرآن مجید نے خدا تعالیٰ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خدا اچھی صفات کا حامل ہے اور اور وہ لوگوں کو بھی خیر ہی کے داعی بننے کا حکم دیتا ہے۔ ارشاد فرمایا:

وَلِلّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا.

اور اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام (اور صفتیں) ہیں، سو اسے انہی ناموں سے پکارا کرو۔

الْأَعْرَاف، 7: 180

اپنے سوال میں آپ نے جس آیت کا کا تذکرہ کیا ہے اس میں خدا تعالیٰ کے اذن اور مشیت کا تذکرہ ہے نہ کہ اس کی رضا کا، نیز اس اختیار کا ذکر ہے جس نیکی اور بدی کے انتخاب میں انسان کو عطا ہوا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کی ’مشیت‘ اور ’حکم و رضا‘ میں فرق ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ’سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے‘ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز خدا کی مشیت و ارادے کے تابع ہے، اچھائی ہو یا برائی دونوں اپنی اثر پذیری کیلئے خدا تعالیٰ کے ارادے، مشیت اور اذن ہی کی محتاج ہیں، خود سے مؤثر نہیں۔ اچھائی اور برائی کے وقوع کا فرق کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ‘اچھائی اللہ کی طرف سے اور برائی تمہارے نفس کی طرف سے ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ اللہ نے اچھائی کا حکم دیا ہے اور وہ اس پر راضی ہے اور برائی کرنے کا نہ تو اس نے حکم نہیں دیااور نہ ہی وہ اس پر راضی ہے، مگر یہ اس کے اذن سے ہی اثر پذیر ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اچھائی و برائی دونوں اللہ کی مشیت و ارادے سے مؤثر ہیں، از خود نہیں۔ اچھائی اللہ کے ارادے و مشیت کے ساتھ ساتھ اسکے حکم اور رضا سے بھی ہےجبکہ برائی اللہ کے ارادے و مشیت سے اثر پذیر توہے مگر اُس کے کسب میں اسکا حکم اور رضا شامل نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟