Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - قربانی کے وجوب کے لیے کتنا مال ہونا شرط ہے؟

قربانی کے وجوب کے لیے کتنا مال ہونا شرط ہے؟

موضوع: قربانی   |  احکام قربانی

سوال پوچھنے والے کا نام: عبدالرحمٰن       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 3880:
السلام علیکم مفتی صاحب! اگر میرے پاس عیدالضحیٰ‌ پر کچھ رقم ہو تو کیا مجھ پر قربانی واجب ہے؟ میں‌ طالبعلم ہوں اور میرے پاس موجود رقم سکالرشپ کی ہے۔

جواب:

قربانی اسلام کا عظیم شعار اور مالی عبادت ہے جو ہر اس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان پر واجب ہے جو عید الضحیٰ کے ایام (10، 11، 12 ذوالحجہ) میں نصاب کا مالک ہو یا اس کی ملکیت میں ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مالیت نصاب کے برابر ہے۔ نصابِ شرعی سے مراد کسی شخص کا ساڑھے باون تولے (612.36گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولے (87.48 گرام) سونے یا اس کی رائج الوقت بازاری قیمت کے برابر مال کا مالک ہونا ہے۔ قربانی کے وجوب کے لیے محض مالکِ نصاب ہونا کافی ہے، زکوٰۃ کی طرح نصاب پر پورا سال گزرنا شرط نہیں ہے۔

لہٰذا اگر قربانی کے ایام میں آپ کے پاس مطلوبہ رقم موجود ہو تو آپ پر قربانی کرنا واجب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-05-14


Your Comments