’جس سے بھی میرا نکاح ہو اس پر طلاق‘ ایسا کہنے والے کے لیے نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3861
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اگر شخص کوئی اس طرح بولے ’سارہ کے علاوہ جس سے بھی میرا نکاح ہو اس پر طلاق ہو، تین دفعہ طلاق ہو، بار بار طلاق ہو‘ پھر کہا ’جتنی لڑکیوں سے میرا نکاح ہو ان پر طلاق ہو تین تین دفعہ طلاق ہو، کسی سے نکاح نہیں کروں گا‘ اس شخص نے یہ سب ایک سانس میں بولا اور یہ جملے بلکل آہستہ آواز میں بولے، جو کسی اور نے نہیں سنے۔ کیا اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ میں نے سنا ہے کہ علامہ طحطاوی نے فرمایا ہے کہ اس طرح طلاق واقع نہیں ہوتی؟ براہِ مہربانی آگاہ فرما دیں۔

  • سائل: فرید شاہمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 11 اپریل 2016ء

زمرہ: نکاح

جواب:

اگر کسی شخص نے کہا کہ ’سارہ کے علاوہ جس سے بھی میرا نکاح ہو اسے طلاق، تین دفعہ طلاق، بار بار طلاق‘ اس نے یہ سب ایک سانس میں کہا یا سانس توڑ کر، آہستہ آواز میں بولا یا بلند آواز میں، کسی نے اسے سُنا یا نہیں، جس سے بھی نکاح کرے گا تین طلاق واقع ہو جائیں گی۔ اگر اس نے یہ الفاظ بولے نہیں تھے، فقط سوچے تھے تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟