Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا طلاق نامہ پر دستخط کی بجائے لائنیں‌ لگانے سے طلاق واقع ہوجائے گی؟

کیا طلاق نامہ پر دستخط کی بجائے لائنیں‌ لگانے سے طلاق واقع ہوجائے گی؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: قاری محمد نوید قادری       مقام: راولپنڈی

سوال نمبر 3838:
السلام علیکم! مفتی صاحب ایک ذہنی معذور خاتون، جس کا گذشتہ آٹھ سال سے علاج چل رہا ہے، نے ایک کاغذ پر طلاق، طلاق طلاق لکھا اور رات کو اڑھائی بجے اپنے شوہر کو جگا کر اسے کاغذ پر دستخط کرنے کے لیے کہا۔ شوہر نے شور و غل سے بچنے کے لیے ایسے ہی دو تین لائنیں لگا دیں۔ کیونکہ شوہر جانتا تھا کہ مذکورہ خاتون کا اپنی کیفیت پر کنٹرول نہیں۔ صبح جب خاتون کے حواس درست ہوئے اور اس نے وہ کاغذ دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کر دیا ہے۔ اس احساس کے ساتھ اس نے کاغذ جلا دیے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ اور اگر شوہر بغیر تحریر پڑھے ایسے ہی کاغذ پر لائن لگا دے تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟

جواب:

طلاق کے وقوع و عدمِ وقوع کا فیصلہ شوہر کے اس بیان سے ہوگا کہ اس نے مذکورہ کاغذ پر دستخط کس کیفیت میں کیے ہیں؟ اگر شوہر نے تحریر پڑھی اور بقائمی ہوش و حواس اسے طلاق نامہ جانتے ہوئے اس کی تصدیق کی نیت سے دستخط کیے ہیں تو طلاق واقع ہوگئی، چاہے اس کے لکھنے والا پاگل ہی کیوں نہ تھا۔ لیکن اگر اس نے تحریری نہیں پڑھی یا پڑھی اور ٹال مٹول کرنے کے لیے اس پر لائینیں کھینچ دیں تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-03-14


Your Comments