مردوں کے لیے ریشم حرام ہونے کی علت کیا ہے؟

سوال نمبر:3832
اسلام نے مردوں کے لیے ریشمی کپڑا پہننے کو حرام قرار دیا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟

  • سائل: علی فرحان مقام: اسلام آباد
  • تاریخ اشاعت: 09 مارچ 2016ء

زمرہ: پردہ و حجاب اور لباس

جواب:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِO

اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم و عطا پر کبھی زبانِ طعن نہ کھولو)، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہےo

الْحَشْر، 59: 07

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ پاک اہلِ ایمان کو حکم دے رہا ہے کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں جس کام کے کرنے کا حکم دیں اسے اپنا لیا جائے اور جس کام سے روکیں اسے ترک کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم اور سونے کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزوں میری امت کے مردوں پر حرام کر دی ہیں۔ اہلِ ایمان کے لیے سونے اور ریشم کو ترک کرنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع کیا ہے۔ حضرت ابومسیٰ اشعری اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

عَنْ اَبِي مُوسَی الْاَشْعَرِیِّ، اَنَّ رَسُولَ اﷲِصلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَی ذُکُورِ اُمَّتِي وَاُحِلَّ لِإِنَاثِهِمْ.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرمa نے فرمایا: میری امت کے مردوں پر ریشمی لباس اور سونا حرام ہے، عورتوں کے لیے حلال ہے۔‘‘

ترمذي، السنن، 4: 217، رقم: 1720، دار احياء التراث العربي، بيروت

عَنْ اَبِي اَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ رضی الله عنه عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ زُرَيْرٍ رضی الله عنه يَعْنِي الْغَافِقِيَّ اَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ اَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه يَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اﷲِصلیٰ الله عليه وآله وسلم اَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَاَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَی ذُکُورِ اُمَّتِی.

’’حضرت ابو افلح ہمدانی رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن زریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی کپڑا لیا اور داہنے دست مبارک سے پکڑا اور سونا لے کر اسے دوسرے دست مبارک میں تھاما۔ پھر فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔‘‘

ابي داود، السنن، 4: 50، رقم: 4057، دار الفکر

اسلام نے جن اشیاء کو حرام قرار دیا ہے، بلاشبہ اس کی کوئی علت ضرور ہوتی ہے۔ ریشم کا لباس اور سونے کے زیورات بنیادی طور پر زینت کی چیزیں ہیں اور اسلام زیب و زینت، بناؤ سنگھار کو خواتین کی ضرورت قرار دیتا ہے، مگر اس کے لیے اعتدال شرط ہے۔ ریشم اور سونے کو مردوں کے لیے حرام قرار دے کر رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ آلہ وسلم نے انہیں تکبر، اسراف اور دنیاوی زینتوں کو مقصودِ محض بنانے سے روکا ہے۔ جدید سائنس طبی نقطہ نظر سے ریشم کو مردوں کے لیے نقصاندہ قرار دے چکی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟