کیا رسول اللہ (ص) کو مجازاً رب کہا جا سکتا ہے؟

سوال نمبر:3822
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رب کہا جا سکتا ہے؟

  • سائل: محمّد کلیممقام: دہلی، انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 07 مارچ 2016ء

زمرہ: توحید

جواب:

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لفظ ’رب‘ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الرب فی الاصل التربية و هو انشاء حالا فحالاً الیٰ حد التمام.

لفظ رب اصلاً تربیت کے معنیٰ میں ہے اور اس سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ مختلف احوال میں سے گزارتے ہوئے آخری کمال کی حد تک پہنچا دینا ہے۔

اصفهانی، المفردات فی غريب القرآن، 1: 184، دارالمعرفة، بيروت، لبنان

امام بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر مفسرین نے اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:

الرب في الاصل بمعنیٰ التربية، و هي تبليغ الشئ الیٰ کماله شيئاً فشياً.

لفظ رب اصل میں تربیت کے معنیٰ میں ہے اور تربیت سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ اس کے کمال تک پہنچانا ہے۔

  1. تفسير البيضاوي، 1: 51، دارالفکر، بيروت، لبنان
  2. تفسير ابي السعود، 5: 21، دار احياء التراث العربي، بيروت، لبنان

قرآن مجید میں رب کا لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کچھ افراد کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام قیدخانے میں ایک شخص سے بادشاہِ مصر کے بارے میں کہا:

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ.

اور یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا جسے ان دونوں میں سے رہائی پانے والا سمجھا کہ اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کر دینا (شاید اسے یاد آجائے کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا نتیجۃً یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانہ میں ٹھہرے رہے۔

يُوْسُف، 12: 42

دوسرے مقام پر فرمایا:

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ.

اور (یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا: یوسف (علیہ السلام) کو (فورًا) میرے پاس لے آؤ، پس جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا: اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکرو فریب کو خوب جاننے والا ہے۔

يُوْسُف، 12: 50

مذکورہ بالا آیات میں ’رب‘ کا لفظ بادشاہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ درج ذیل آیت میں رب کا لفظ بیک وقت اللہ تعالیٰ اور والدین کے لیے آیا ہے۔

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا.

اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔

بَنِيْ إِسْرَآئِيْل، 17: 24

مطلقاً رب کا لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی مستعمل ہے کیونکہ وہی ذات حقیقی مربی و مالک ہے اور اسی کی ملکیت و پرورش ساری کائنات پر علیٰ الاطلاق ہے۔ مگر مجازاً رب کا لفظ تربیت دینے والے، پرورش کرنے والے اور بادشاہ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مجازی طور پر رب کہا جاسکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟