فون پر نکاح‌ کا انعقاد کن شرائط کے ساتھ جائز ہے؟

سوال نمبر:3820
السلام علیکم مفتی صاحب! میری اور میری بیوی کی رضا مندی سے ہمارا نکاح 50000 حق مہر کے عوض فون پر ہوا، جس کے دو گواہ بھی موجود تھے جس کے بعد ہماری ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ اس وقت حالات کچھ ایسے تھے کہ ہمارے پاس کو ئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ میں حد سے زیادہ برائی میں پڑتا جا رہا تھا جس سے بچنے کے لیے میں نے لڑ کی کی رضا مندی سے نکاح کیا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ہم دونوں نے اپنے والدین سے بھی اس بات کو چھپائے رکھا، مگر ہمارا ارادہ تھا کہ ہم جلد ہی مناسب طریقے سے شادی کا اعلان کردینگے۔ مجھے آپ سے فتویٰ چاہیے کہ کیا اس طرح ہمارا نکاح ہو چکا ہے یا نہیں؟

  • سائل: محمد سعد خانمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 01 مارچ 2016ء

زمرہ: نکاح

جواب:

اگر لڑکا اور لڑکی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے عوض ایجاب و قبول کر لیں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دوسرے کو جانتے ہوئے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا تو آپ کا نکاح منعقد ہوگیا۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟