مَسْحُور کی طلاق کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3790
السلام وعليكم مفتی صاحب! میری دوست کے شوہر نے بغير کسی بھی لڑائی کے اچانک کہہ دیا کہ "میں تمہیں ابھی طلاق دے دیتا ہوں" بقول ان کے ان کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ شوہر نے جاب سے گھر واپس آ کر نماز پڑھی، وہ کہتے ہيں کہ جیسے ہی وہ گھر داخل ہوئے تو ان دماغ میں آگ سی لگ گئی تھی۔ ہم لوگوں نے یہاں پر قائم اسلامک سینٹر سے اس بار میں پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ شوہر نے ’طلاق دے دیتا ہوں‘ کے الفاظ کہے ہیں نا کہ ’ديتا ہوں يا طلاق دے دی‘ اور شوہر کے دماغ ميں طلاق کا ارادہ اور جملے ميں فوراً كا عمل شامل نہيں ہے، لہٰذا طلاق واقع نہيں ہوئی۔ ليكن آئندہ ايسا كہنے سے گریز کیا جائے۔ شوہر اب بہت پريشان اور نادم ہيں۔ دونوں کی شادی کو 16 سال ہو گئے ہيں اور ماشاءاللہ ان کے 4 بچے ہيں۔ ايک بات کی وضاحت کر دوں میاں بیوی پر سخت قسم کا جادو ہے۔ میری دوست کے بقول ان پر جادو کروانے والے دونوں مياں بيوى ميں جدائی کرا رہے ہیں۔ براہ مہربانی راہنمائی فرما دیں کہ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ اگر آپ کے پاس جادو کا کوئی علاج ہے تو اس بارے بھی گائیڈ كر دیں۔ جزاک اللہ۔

  • سائل: صائمہ اخترمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 15 فروری 2016ء

زمرہ: مریض کی طلاق

جواب:

مذکورہ شخص نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لیکن آئندہ کے لیے احتیاط کرے۔ اللہ تعالیٰ اسے شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین

>

جادو کے اثرات سے چھٹکارے کے لیے پانچ وقت کی نماز ادا کریں اور اس کے بعد ذیل میں دیا گیا وظیفہ پڑھ کرپانی پر دم کر لیں، اس دم شدہ پانی کو کھانے پینے میں استعمال کریں اور گھر میں پاک جگہوں پر بھی اس کے قطرے گرا دیں۔ اس وظیفہ کے علاوہ جتنا ہو سکے درودوسلام کا ورد کریں۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔

وظیفہ درج ذیل ہے:

  1. سورۃ الفاتحہ
  2. آیت الکرسی
  3. سورۃ الاخلاص
  4. سورۃ الفلق
  5. سورۃ الناس
  6. سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 102 میں سے : وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ.

مذکورہ بالا میں سے سورۃ الاخلاص تین مرتبہ باقی تمام ایک ایک بار اور اوّل و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود وسلام پڑھیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟