Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اذان دینے کی فضلیت کیا ہے؟

اذان دینے کی فضلیت کیا ہے؟

موضوع: آذان

سوال نمبر 379:
اذان دینے کی فضلیت کیا ہے؟

جواب:

اذان شعائرِ دین میں سے ہے۔ اذان کا احترام، اذان سے محبت ہر مومن کاایمانی تقاضا ہے۔ اذان دینے کی فضیلت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے :

الْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب فضل الأذان وَهرب الشيطان عند سماعه، 1 : 290، رقم : 387

’’قیامت کے دن جب مؤذن اٹھیں گے تو ان کی گردنیں سب سے بلند ہوں گی۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں درج ذیل نکات اخذ ہوتے ہیں :

  1. قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مؤذن میدانِ حشر میں سب سے ممتاز اور منفرد نظر آئیں گے۔
  2. دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کو ثواب زیادہ ملے گا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ انہیں کثیر ثواب کو دیکھنے کا اشتیاق ہو گا اور جس شخص کو کسی چیز کے دیکھنے کا اشتیاق ہو وہ گردن اٹھا اٹھا کر دیکھتا ہے اس لیے ان کی گردنیں لمبی ہوں گی۔
  3. تیسرا مطلب یہ ہے کہ انہیں اﷲ تعالیٰ کی رحمت کی زیادہ امید ہوگی اور جس شخص کو کسی چیز کی امید ہوتی ہے وہ گردن اٹھا اٹھا کر امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے۔
  4. چوتھا مطلب یہ ہے کہ مؤذن اپنے اعمال پر نادم اور شرمسار نہیں ہوں گے کیونکہ جو نادم اور شرمسار ہوں اس کی گردن جھکی ہوئی ہوتی ہے جبکہ ان کی گردنیں بلند ہوں گی۔
  5. پانچواں مطلب یہ ہے کہ میدانِ حشر میں جب تمام لوگ گرمی سے پسینہ میں شرابور ہوں گے، مؤذنوں کو کوئی پریشانی نہ ہو گی تبھی تو ان کی گردنیں بلند ہوں گی۔
  6. چھٹا مطلب یہ ہے کہ مؤذن کی اذان سن کر لوگ مساجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں، تو نمازی تابع اور مؤذن متبوع ہوا، اور متبوع چونکہ سردار ہوتا ہے اس لیے قیامت کے دن اس کی گردن بلند ہو گی تاکہ اس کا سر نمایاں نظر آئے۔
  7. ساتواں مطلب یہ ہے کہ گردن لمبی ہونے سے مؤذن کے اعمال کی کثرت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کثرت اس وجہ سے ہے کہ مؤذن کی اذان سن کر جس قدر لوگ نماز پڑھنے آئیں گے ان تمام کے اعمال کا ثواب مؤذن کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اگرچہ نمازیوں کے اپنے اپنے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔

نووی، شرح صحيح مسلم، 1 : 1098

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments