اگر مُشْتَرِی اپنی رضا سے اضافی رقم دینا چاہے تو اس کا لینا کیسا ہے؟

سوال نمبر:3783
السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ آج سے سات آٹھ سال پہلے حکومت پاکستان نے منگلا ڈیم کا معاوضہ بنایا، مگر وہ ایک جھگڑے کا شکار ہوگیا۔ اب حکومت پاکستان اُس معاوضے کے ساتھ اضافی رقم دینا چاہتی ہے۔ کیا وہ اضافی رقم لینا ہمارے لیے جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو اس رقم کا کیا کیا جائے؟ جزاک اللہ خیر

  • سائل: ایم ایچ قادریمقام: میرپور
  • تاریخ اشاعت: 11 فروری 2016ء

زمرہ: خرید و فروخت (بیع و شراء، تجارت)

جواب:

بصورتِ مسئلہ یہ اضافی رقم جو حکومت کی اپنی مرضی اور خوشی سے دے رہی ہے، اس لیے اضافی رقم لینے اور استعمال میں لانے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ یہ رقم اضافی مدت کا معاوضہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟