Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بیوی کو علم نہ ہونے کی صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟

بیوی کو علم نہ ہونے کی صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟

موضوع: طلاق   |  طلاق صریح   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد حسن       مقام: ملتان

سوال نمبر 3781:
السلام علیکم! میری شادی ایک سال پہلے ہوئی اور شادی کے دو ماہ بعد میں‌ بیرونِ ملک چلا گیا۔ میں کچھ عرصے بعد واپس آیا تو میرے اور میری بیوی کے بیچ معاملات نہ چل سکے اور وہ میکے چلی گئی۔ میں کافی سوچ بچار کے بعد اسے طلاقِ‌ رجعی کا نوٹس بھجوادیا جو اسے موصول ہوگیا۔ کچھ دن بعد میں‌ نے اسے فون کیا تو وہ صلح‌ اور رجوع کے لیے تیار نہ تھی اور اس نے مکمل طلاق کا مطالبہ کیا۔ میں نے پہلے نوٹس کے سات دن بعد اسے دوسرا اور تیسرا نوٹس بھی بھجوا دیا، تاہم نوٹس بھیجنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ مجھے کچھ انتظار کرنا چاہیے۔ میں نے مؤخر الذکر دونوں نوٹس اپنی بیوی کو وصول ہونے سے پہلے ہی واپس منگوا لیے اور ان دونوں نوٹسز کی میری بیوی کو کوئی خبر نہیں ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نکاح‌ قائم ہے یا طلاق واقع ہو گئی ہے؟ براہِ‌ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

جواب:

اگر آپ نے طلاقِ رجعی کی عدت کے دوران بقائمِ ہوش و حواس طلاق کا دوسرا اور تیسرا نوٹس تیار کر لیا تھا، خواہ وہ بیوی کو موصول ہوا یا نہیں ہوا، آپ کا نکاح ختم ہوچکا اور طلاقِ مغلظہ واقع ہوگئی ہے۔ طلاقِ مغلظہ سے مراد ایسی طلاق ہے جس کے نتیجہ میں مرد اس عورت سے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا، جب تک کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے ہو اور ہمبستری کرنے کے بعد وہ بیوہ یا مطلقہ نہ ہو جائے اور اس کی عدت پوری نہ کر لے۔ بیوی کے لیے طلاق کے بارے میں جاننا، علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ خاوند نے جب بھی طلاق دی، چاہے بیوی کو پتہ چلے یا نہ چلے اسی وقت طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ جواب کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا طلاقِ ثلاثہ کے بعد رجوع کی کوئی صورت ہے؟

مطلقہ کی عدت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-02


Your Comments