Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - عربی کے لفظ‌ ’دار‘ کے لیے انگریزی کا کونسا حرف درست ہے؟

عربی کے لفظ‌ ’دار‘ کے لیے انگریزی کا کونسا حرف درست ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مدثر       مقام: اوسلو (ناروے)

سوال نمبر 3774:
السلام علیکم سر! برائے مہربانی وضاحت کیجیے گا کہ عربی کے لفظ‌ ’دارال۔۔۔‘ کی ترجمانی انگریزی کا کونسا حرف درست طور پر کرتا ہے، مسکن (Abode) یا سلطنت (Territory)؟ اگر سلطنت (Territory) ’دارال‘ کا درست ترجمان نہیں ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟

جواب:

عربی کا لفظ ’دار‘ کئی معنی کے لیے مستعمل ہے۔ یہ عربی زبان میں ایوان جیسے ’دار الارقم‘، ملک جیسے ’دارالاسلام، دارالکفر وغیرہ‘، مسکن جیسے ’دارالفناء (دنيا)، دار القرار (آخرت) وغیرہ‘، مخصوص عمارت جیسے ’دارالعدل‘ اور رہائش گاہ جیسے ’دارالاطفال‘ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے مراد رہنے کی جگہ اور قیام گاہ ہے۔ انگریزی زبان کا لفظ Abode بھی ایک وسیع المعنیٰ لفظ ہے جو گھر، مسکن اور قیام گاہ کے معنیٰ دیتا ہے۔ ہماری دانست میں ’دار‘ کا قریب المعنیٰ اور مناسب متبادل Abode ہے۔انگریزی کے لفظ Territory میں مخصوص علاقے کے معنیٰ پائے جاتے ہیں جس کے لیے عربی کا لفظ إقليم متبادل ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-04


Your Comments