چرمہائے قربانی کے مصارف کیا ہیں؟

سوال نمبر:3744
قربانی کی کھال کے مصارف کیا ہیں؟

  • تاریخ اشاعت: 29 ستمبر 2015ء

زمرہ: قربانی کے احکام و مسائل

جواب:

قربانی کی کھال سے اگر کوئی شخص جائے نماز بنائے تو تمام فقہاء کرام کے نزدیک ایسا جائز ہے۔ لیکن اگر فروخت کریں تو اس کی قیمت مناسب مصرف میں استعمال کی جائے اور ہرگز اپنے پاس نہ رکھی جائے۔

یہ کھالیں کسی بھی فلاحی و دینی کام میں استعمال کی جا سکتی ہیں‘ مسجد، مدرسہ، رفاہی ادارے، غریب، یتیم، بیوہ وغیرہ کو دے سکتا ہے۔ اگر اسے فروخت کرے تو قیمت صدقہ کرے۔ اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔ امام مسجد اگر غریب ہے تو بطور اعانت اسے بھی کھال دے سکتے ہیں۔

بهار شريعت ، 15:148

غربا و مساکین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے بااعتماد فلاحی ادارے کو دی جا سکتی ہیں۔ غریب و مستحق طلبا کی تعلیم پر خرچ کی جا سکتی ہیں۔ بیمار لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خرچ کی جا سکتی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟