Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کسی دوسرے کی طرف سے رمی کی جاسکتی ہے؟

کیا کسی دوسرے کی طرف سے رمی کی جاسکتی ہے؟

موضوع: حج  |  عمرہ   |  رمی

سوال نمبر 3731:
کیا حاجی اپنی رمی کے علاوہ کسی دوسرے حاجی کی طرف سے بھی رمی کر سکتا ہے؟

جواب:

منیٰ میں واقع تین جمرات (یعنی شیاطین) پر کنکریاں مارنے کو رَمِیْ کہتے ہیں۔ ان میں سے پہلے کا نام جمرۃ الاخریٰ یا جمرۃ العقبہ ہے۔ اسے عوام الناس بڑا شیطان کہتے ہیں۔ دوسرے کو جمرۃ الوسطیٰ (منجھلا شیطان) اور تیسرے کو جمرۃ الاولیٰ (چھوٹا شیطان) کہتے ہیں۔

ہر حاجی کے لئے اپنے ہاتھ سے رمی کرنا واجب ہے۔ البتہ ضعیف، کمزور یا بیمار یعنی ایسے لوگ جو کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکتے ہوں یا سواری میسر نہ ہو اور جمرات تک پیدل نہ جا سکتے ہوں یا جا تو سکتے ہوں مگر مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو ایسے معذور حجاج اپنی جگہ کسی کو نائب مقرر کر سکتے ہیں۔ نائب کو چاہئے کہ پہلے وہ اپنی طرف سے رمی کرے یعنی سات کنکریاں مارے پھر دوسرے معذور حاجی کی طرف سے سات کنکریاں مارے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments