کیا بینک کا سیونگ پلان جائز ہے؟

سوال نمبر:3677
بنکوں میں جو سالانہ اور کم از کم 5 سالہ بنیاد پر سیونگ پلان حاصل کیا جاتا ہے۔ جس میں بنک کو پانچ سال میں اگر آپ 10 لاکھ دیں تو وہ پانچ سال کے بعد آپ کو 20 لاکھ واپس کرتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے کہ نہیں؟ حالانکہ اگر آپ سیونگ پلان نہیں لیتے تو پھر بھی آپ کی وہی رقم بنک استعمال کرتا رہتا ہے اور اس کا آپ کو پرافٹ بھی نہیں ملتا۔‎

  • سائل: محمد سلیممقام: الہ آباد
  • تاریخ اشاعت: 28 جولائی 2015ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  نفع و نقصان شراکتی کھاتہ

جواب:

اگر بینک نفع و نقصان کی شراکت پر رقم جمع کرے اور مقررہ مدت کے بعد نفع و نقصان فریقین میں تقسیم ہو جائے، تو سیونگ پلان جائز ہے۔

اس کے برعکس اگر نفع پہلے سے ہی طے کر لیا جائے تو یہ سود ہے جو کہ سراسر ناجائز ہے۔

مسئلہ مسؤلہ میں دس (10) لاکھ جمع کرواتے ہی معاہدہ طے پا گیا کہ بینک کو خواہ نفع زیادہ ہو یا نقصان ہوجائے ہر حال میں آپ کو پانچ (5) سال بعد دس (10) لاکھ کے ساتھ دس (10) لاکھ مل جائے گا، تو یہ ناجائز ہے۔ ایسا سیونگ پلان جائز نہیں۔

سیونگ پلان صرف وہی جائز ہے جس میں نفع و نقصان کی شراکت کی شرط ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟