Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - نفسانی خواہشات پر کیسے قابو پایا جائے؟

نفسانی خواہشات پر کیسے قابو پایا جائے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: علی       مقام: فیصل آباد

سوال نمبر 3676:
السلام علیکم! ہم نفسانی شہوات پر قابو کیسے رکھ سکتے ہیں؟

جواب:

اسلام دین فطرت ہے اور اس کا سب سے بڑا امتیاز وہ روح اعتدال ہے جو اس کی ہر تعلیم اور ہر حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ انسان میں موجود فطری، خلقی اور جنسی احساسات و جذبات کی تسکین اور تکمیل کے لیے اسلام نے انتہائی مرتب، جامع اور حکیمانہ ازدواجی نظام متعین کیا ہے۔ اسلام نہ تو جنسی لذت کو اصل مقصود حیات قرار دیتا ہے اور نہ اس جذبے کو شر محض قرار دے کر اس کی بیخ کنی چاہتاہے۔ افراط وتفریط کی ان دونوں انتہاؤں سے اسلام کا دامن پاک ہے اور اس کا معتدل نظام ازدواج اس پر شاہد ہے۔ نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اسلام نے نکاح کا راستہ دکھایا ہے۔ اس لیے اگر آپ جسمانی ومالی ہر دو لحاظ سے حقوق زوجیت کی ادائیگی پر قادر ہیں، بیوی کو مہر اور ضروریاتِ زندگی دے سکتے ہیں اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں اسے مبتلائے زنا ہو جانے کا یقین بھی ہے، تو آپ پر نکاح فرض ہے۔ کیوں کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَهیمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ بَیْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اﷲِ ص فَقَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فَقَالَ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَائَةَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَإِنَّه أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْه بِالصَّوْمِ فَإِنَّه لَه وِجَائٌ۔

’’حضرات عبدان، ابو حمزہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا: جو عورت کا مہر ادا کرسکتا ہو وہ نکاح کر لے کیونکہ یہ نظر کو جھکاتا ہے اور شرمگاہ کے لیے اچھا ہے اور جو ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ یہ شہوت کو گھٹاتا ہے۔‘‘

  1. بخاري، الصحیح، 2: 673، رقم: 1806، دار ابن کثیر الیمامة، بیروت
  2. مسلم، الصحیح، 2: 1019، رقم: 1400، دار احیاء التراث العربي، بیروت
  3. احمد بن حنبل، المسند، 1: 378، رقم: 3592، مؤسسة قرطبة، مصر
  4. ابي داؤد، السنن، 2: 219، رقم: 2046، دارالفکر
  5. ابن ماجه، السنن، 1: 592، رقم: 1845، دار الفکر، بیروت

لہٰذا آپ شادی کر لیں، اگر شادی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے یعنی بیوی کو نان و نفقہ نہیں دے سکتے تو کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیں، انشاءاللہ شہوت پر قابو پانے میں آسانی ہو جائےگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-08-17


Your Comments