کیا رسول اکرم (ص) تمام عمرِ مبارک میں ایک ہی بار قبرستان گئے ہیں؟

سوال نمبر:3654
السلام علیکم! کیا رسولِ اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری زندگی میں صرف ایک بار قبرستان گئے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کی حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ اگر آپ ایک بار گئے ہیں‌ تو ہمیں‌ بھی زندگی میں بس ایک بار ہی قبرستان جانا چاہیے؟

  • سائل: محمد تنویر پنجتنیمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 19 اگست 2015ء

زمرہ: زیارت قبور

جواب:

قبور کی زیارت کرنا باعثِ اجر و ثواب اور تذکیرِ آخرت کا ذریعہ ہے۔ آئمۂِ حدیث و تفسیر نے شرح و بسط کے ساتھ اس کی مشروعیت کو بیان کیا ہے۔ آئمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جمیع مسلمانوں کو خواہ مرد ہو یا عورت زیارتِ قبور کی اجازت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا معمول مبارک بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع کے قبرستان میں تشریف لے جاتے، انہیں سلام کہتے اور ان کے لئے مغفرت کی دعا فرما تے۔ اس کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شہدائے بدر کی قبور پر تشریف لے جانا اور بوڑھی عورت کی قبر پر جا کر اس کا جنازہ پڑھنا بھی ثابت ہے۔ جن لوگوں نے آپ کو یہ بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک بار تشریف لے گئے ہیں یہ ان کی جہالت ہے یا اسلام دشمنی ہے۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور کی ترغیب دی اور اسے موت کی یاد دلانے اور گناہوں سے بچانے والا عمل قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

فَزُوْرُوا القُبُوْرَ فَإِنَّهَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ

’’تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

  1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب استئذان النبي صلي الله عليه وآله وسلم ربه عزوجل في زيارة قبر أمه، 2 : 671، رقم : 976
  2. حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1390
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 441، رقم : 9686

اس موضوع کی مکمل وضاحت کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب ’زیارت قبور‘ ملاحظہ کریں۔

جو قاعدہ آپ نے بیان کیا ہے کہ جو عمل حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ کیا ہے ہمیں بھی ایک ہی مرتبہ کرنا چاہیے ورنہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے پڑھ جائیں گے۔ یہ قاعدہ اور کلیہ نہ تو آئمہ نے بیان کیا اور نہ اسے کبھی تسلیم کیا گیا ہے۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عملِ مبارک سے آگے بڑھنے سے مراد یہ ہے کہ ایک عمل سے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور انسان اسی عمل کو کرے۔ اگر آپ کے بیان کردہ قاعدہ کو دین کے ہر معاملے میں لاگو کریں تو دین پر عمل کرنے میں بےشمار مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟