Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - پانی ایک میل کے فاصلے پر موجود ہے مگر نماز کا وقت کم رہ جائے تو پانی حاصل کر کے وضو کرے یا تیمم کرے؟

پانی ایک میل کے فاصلے پر موجود ہے مگر نماز کا وقت کم رہ جائے تو پانی حاصل کر کے وضو کرے یا تیمم کرے؟

موضوع: تیمم   |  طہارت

سوال نمبر 365:
پانی ایک میل کے فاصلے پر موجود ہے مگر نماز کا وقت کم رہ جائے تو پانی حاصل کر کے وضو کرے یا تیمم کرے؟

جواب:

فرض نمازوں کے لیے واجب یہ ہے کہ آخر وقت تک پانی تلاش کرے۔ اگر ایک میل کے فاصلے پر پانی کی موجودگی کا یقین ہو تو (چاہے وقت کم ہو اور نماز قضا ہوجائے) تو پانی حاصل کرکے وضو کرے اور پھر نماز ادا کرے۔ ایک میل تک پانی کی موجودگی کا یقین ہوتے ہوئے وقت نکل جانے کے خوف کی بنا پر تیمم جائز نہیں ہے۔ البتہ نمازِ عیدین اور نمازِ جنازہ غیر ولی کے لیے یہ جائز ہےولی میت کے لئے جائز نہیں۔ اگر خدشہ ہو کہ وضو کرنے کی وجہ سے نماز عیدین یا نماز جنازہ نکل جائے گی تو تیمم کرکے یہ نمازیں ادا کر لے کیونکہ ان نمازوں کی قضا نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments