Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بیٹے کی پیدائش کا وظیفہ کیا ہے؟

بیٹے کی پیدائش کا وظیفہ کیا ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: ثمینہ عابد       مقام: سعودی عرب

سوال نمبر 3629:
السلام علیکم! مجھے بیٹے کی شدید خواہش ہے اور میں نے اس کے لیے کئی منتیں‌ مانیں اور وظائف پڑھے مگر میرے گھر میں پھر بھی بیٹی ہوئی ہے۔ کیا میں وہ منتیں‌ پوری کروں؟ اور مجھے بیٹے کے لیے کوئی وظیفہ بھی بتائیں۔

جواب:

اگر آپ نے بیٹے کی پیدائش کے لیے کوئی منت یا نظر مانی تھی اور آپ کے ہاں بیٹے کی پیدا نہیں ہوا تو منت کا پورا کرنا آپ پر واجب نہیں۔ منت یا نظر پوری کرنا اس وقت واجب ہوتا ہے جب وہ مقصد حاصل ہوجائے جس کے لیے نظر مانی گئی تھی۔

اولاد نرینہ کے حصول کے لیے اوّل و آخر درودِ پاک پڑھ کر روزانہ ’یَا اَوّلُ‘ کا سو (100) بار ورد کریں۔ یہ وظیفہ حسبِ ضرورت 11 دن، 40 دن یا اس سے بھی زائد عرصہ جاری رکھیں۔ ان شاءاللہ اولادِ نرینہ کی نعمت ملے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-05-25


Your Comments