Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - فرشتوں کے ذمہ کونسے کام ہیں؟

فرشتوں کے ذمہ کونسے کام ہیں؟

موضوع: ایمانیات  |  ایمانیات

سوال نمبر 36:
فرشتوں کے ذمہ کونسے کام ہیں؟

جواب:

اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی سرشت میں کامل اطاعت کا پہلو رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کائنات کے مختلف امور سر انجام دیتے ہیں اور از خود کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَO

النحل، 16 : 50

’’وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیںo‘‘

حضرت ابن سابط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب ’’اُمُّ الکتاب‘‘ میں موجود ہے۔ تین فرشتوں کو مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اس کی نگرانی کریں، پس حضرت جبرائیل علیہ السلام کو کتاب سپرد کی گئی ہے کہ وہ اسے رسولوں تک لے جائیں اور ان کو خدا کے عذاب کے معاملات بھی سپرد کیے گئے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی ہلاکت کا ارادہ کرتے ہیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو (اپنے دشمنوں کے خلاف) جنگ میں مدد پر مقرر کر دیتے ہیں اور حفاظت، بارش اور زمین کے نباتات حضرت میکائیل کے سپرد ہیں۔ ملک الموت کے سپرد ارواح قبض کرنا ہے، پس جب دنیا ختم ہو گی تو لوگوں کے اعمال ناموں کو جمع کیا جائے گا اور

’’اُمُّ الکتاب‘‘ کے ساتھ تقابل کیا جائے گا تویہ مدبرین دنیا ان اعمال ناموں کو ام الکتاب کے موافق پائیں گے۔

ابن حبان، کتاب العظمة، 3 : 973، رقم : 496

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

إِنَّ طَرْفَ صَاحِبِ الصُّورِ مُذْ وُکِّلَ بِه مُسْتَعِدٌّ يَنْظُرُنَحْوَ الْعَرْشِ مَخَافَةَ أنْ يُؤْمَرَ قَبْلَ أنْ يَرْتَدَ إِلَيْهِ طَرْفُه کَأنَّ عَيْنَيْهِ کَوْکَبَانِ دُرِّيَانِ.

حاکم، المستدرک، 4 : 603، کتاب الاهوال، رقم : 8676

’’بلاشبہ حضرت اسرافیل جب سے صور پھونکنے پر مقرر ہوئے ہیں تب سے تیار ہیں۔ عرش کے اردگرد اس خوف سے نظر کر رہے ہیں کہ انہیں نظر جھپکنے سے قبل حکم نہ دے دیا جائے، اس کی دونوں آنکھیں گویا کہ چمکدار ستارے ہیں۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments