حدود، تعزیرات اور عائلی و انفرادی معاملات میں عفو کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3574
اسلام میں عفو کے تصورات کیا ہیں؟ حدود، تعزیرات، میدان جنگ، عائلی و انفرادی معاملات میں اسلام کس حد تک عفو کی اجازت دیتا ہے اور عفو کس وقت جائز اور کس وقت ناجائز و ممنوع ہو گا؟

  • سائل: شہباز شبیر ملکمقام: میرپور، آزاد جموں وکشمیر
  • تاریخ اشاعت: 06 اپریل 2015ء

زمرہ: حدود و تعزیرات

جواب:

عفو و درگزر مسلمان کی اہم صفت ہے، جو ہر مسلمان میں پائی جانی چاہیے۔ عفو و درگزر سے دل نرم پڑتے ہیں اور اس کے ذریعے حقائق دلوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ صفت خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اس کے بارے میں معقول اور متوازن رویہ اپنانا اور افراط و تفریط کا شکار ہونے سے بچنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر خطا سے درگزر فرماتے اور اپنے ساتھ کیے گئے ہر برے سلوک کو معاف فرما دیتے، لیکن اگر کسی معاملے کا تعلق کسی دوسرے شخص کے حق سے ہوتا یا اس کی زد دین کی کسی اساس پر پڑتی یا معاملہ حدود کی نفاذ کا ہوتا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک حقدار کو اس کا حق نہ دلوا دیتے اور بداعمالگی کا سدباب نہ فرما دیتے، چین سے نہ بیٹھتے تھے۔

جہاں تک حدود اور تعزیرات میں عفو کا تعلق ہے، تو ذہن نشین رہے کہ اسلام میں‌ حدود و تعزیرات کا نفاذ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ حدود و تعریرات سے متعلق کوئی مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے اور سزا کے نفاذ کی شرائط پوری ہوں اور کوئی مانع موجود نہ ہو تو قاضی کو مجرم پر ترس کھا کر یا جذبہ عفو کے تحت سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اگر شریعت نے متاثرہ فریق کو سزا معاف کر دینے کا اختیار دیا ہو، تو معافی ہوسکتی ہے، جیسے قصاص کو معاف کرنے کا اختیار مقتول کے اولیاء کو دیا گیا ہے۔ جن سزاؤں کے بارے میں نص میں یہ صراحت موجود نہیں، ان کی معافی کا اختیار کسی کو نہیں۔ اسی طرح میدانِ جنگ میں عفو و درگذر کا مظاہرہ عقلاً، عرفاً اور شرعاً ناممکن ہے۔

عائلی اور انفرادی معاملات میں سختی اور تعصب پر مبنی برتاؤ کے جواب میں ایک مسلمان کو نرمی اور خودداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، یہی بات اہل ایمان کے شایاں ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں جس قسم کے اخلاق کی تعلیم دیتاہے ان کا بھی یہی تقاضا ہے:

وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاما

الفرقان: 72

اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو شریفانہ انداز سے گذرتے ہیں۔

انفرادی سطح پر ایک مسلمان کو جو دستورالعمل اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے وہ حسبِ ذیل ہے:

وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيْم

التغابن: 14

اور اگر معاف کر دو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

اس لیے جو مسلمان اس بات کا امیدوار اور آرزومند ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ رحمت و مغفرت کا برتاؤ فرمائیں اسے چاہیے کہ اِس خلق کو اپنائے اور اسے اپنے اخلاق کا لازمی حصہ بنائے۔ جو لوگ اس زندگی میں آئندہ کی زندگی کو پیش نظر رکھتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ خاص صلاحیت اور دانائی سے سرفراز فرماتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کا مستقل روشن اور تابناک ہوتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟