Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اسلام میں‌ پیغامِ نکاح بھیجوانے طریقہ کیا ہے؟

اسلام میں‌ پیغامِ نکاح بھیجوانے طریقہ کیا ہے؟

موضوع: نکاح   |  معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: فیروز خان       مقام: دہلی، الہند

سوال نمبر 3566:
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں‌ رشتہ مانگنے کا طریقہ کیا ہے؟ پہلے لڑکے والوں‌ کو جانا چاہیے یا لڑکی والوں‌ کو؟ شکریہ۔ جزاک اللہ

جواب:

قرآن و حدیث اور سنت میں مقید نہیں کیا گیا کہ کونسا فریق پیغام نکاح بھیج سکتا ہے، اور کس کے لیے ممنوع ہے۔ مگر عرف یہی ہے کہ لڑکا یا اس کے گھر والے لڑکی کے گھر والوں کو پیغامِ نکاح بھیجتے ہیں، اس میں لڑکی کی عزت و تکریم بھی ہے۔ عہد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسم میں اس کی مثال سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے رشتہ کے لیے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے حضرت ابوبکرِ صدیق رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغامِ نکاح لے جانے کی صورت میں ملتی ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ پہلے لڑکے والے لڑکی کے گھر جائیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-04-08


Your Comments