کیا معذورِ شرعی امامت کر سکتا ہے؟

سوال نمبر:3560
السلام علیکم! میں شرعی طور پر معذور ہوں کیا میں امامت کر سکتا ہوں؟ کیا اگر میرے خاندان میں سے کوئی فرد دنیا سے چلا جائے تو میں اُس کا جنازہ پڑھا سکتا ہوں؟

  • سائل: محمد قادریمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 30 مارچ 2015ء

زمرہ: احکامِ طہارت و صلوٰۃ برائے معذور

جواب:

اگر امام کا عذر جسمانی ہے اور وہ قیام، رکوع، سجدہ یا جلسہ سے عاجز ہے مگر تقویٰ و طہارت اور علم و فضل کے اعتبار سے موجود افراد میں سے افضل ہے اور لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا باعث سعادت سمجھتے ہیں تو اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم عمومی طور پر بہتر اور مستحسن یہی ہے کہ معذور کی بجائے صحت مند شخص امامت کرے۔

اگر امام کا عذر شرعی ہے اور وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے نماز کے پورے وقت میں اس کا وضو اتنی دیر بھی نہیں رہتا کہ وہ فرض نماز ادا کر سکے، ایسا معذو اپنے مثل یا اپنے سے زائد عذر والے کی امامت کر سکتا ہے۔ کم عذ ر والے یا صحت مند کی امامت نہیں کر سکتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟