Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگرامام بھول جائے تو اس کو یاد کروانے کا کیا طریقہ ہے؟

اگرامام بھول جائے تو اس کو یاد کروانے کا کیا طریقہ ہے؟

موضوع: نماز  |  نماز با جماعت   |  با جماعت نماز کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: عبد ا لخالق کتری       مقام: ماتلی، ڈسٹرکٹ بدین، سندھ

سوال نمبر 3541:
السلام علیکم! نماز میں لقمہ دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر نماز میں امام سے کوئی بھی بھول ہو جائے تو لقمہ دینے کا طریقہ کار کیاہے؟

جواب:

اگر امام آیت میں یا اس کے علاوہ کہیں بھول جائے تو اس کو یاد کروانا جائز ہے، بلکہ بعض اہل علم نے اسے واجب قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں کئی احادیث صحیحہ وارد ہیں۔

امام اگر بقدر واجب، چھوٹی تین آیات یا ایک ایسی بڑی آیت جو چھوٹی تین آیات کے برابر ہو، قرات کر لینے کے بعد بھولتا ہے تو اسے لقمہ نہ دیا جائے اور نہ ہی امام انتظار کرے، بلکہ اسے فوراً رکوع چلا جانا چاہیے۔

اگر امام قرات کے علاوہ رکوع، سجدہ یا تشہد میں بھول جائے تو اسے ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر یاد کروایا جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-03-31


Your Comments