سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں تو کیا غسل میں ہر بال کی جڑ سے نوک تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟

سوال نمبر:349
سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں تو کیا غسل میں ہر بال کی جڑ سے نوک تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: غسل   |  طہارت

جواب:
اگر غسل کرنے والی عورت کے سر کی جڑوں تک پانی بالوں کو کھولے بغیر پہنچ جائے تو اس کے لیے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں جیسا کہ درج ذیل حدیث مبارکہ سے ثابت ہے :

’’حضرت ام سلمی رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم! میں اپنے سر پر بہت کس کر مینڈھیاں باندھتی ہوں کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں تمہارے لیے سر پر صرف تین چلو پانی بہا لینا کافی ہے۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہا لو تو تم پاک ہو جاؤ گی۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الحيض، باب حکم ضفائر المغتسلة، 1 : 259، رقم : 330

جمہور فقہاء کے نزدیک اگر گوندھے ہوئے بالوں تک پانی نہ پہنچے تو پھر بالوں کا کھولنا واجب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟