کیا لائف انشورنس شرعاً جائز ہے؟

سوال نمبر:3482
السلام علیکم! اسٹیٹ لائف انشورنس یا کسی اور کمپنی میں لائف انشورنس کرانا شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟

  • سائل: امتیاز احمدمقام: حاجی پور، راجن پور
  • تاریخ اشاعت: 24 جنوری 2015ء

زمرہ: بیمہ و انشورنس

جواب:

انشورنس کے نظام میں اصولاً کوئی غیر شرعی بات نہیں ہے۔ یعنی یہ کہ کوئی ادارہ لوگوں سے پیسے لے کر ان کو اس وقت ادا کردے جب پہلے سے طے کردہ ضرورت سامنے آجائے۔ یہ ادارہ کوئی کاروبار کرکے اس سرمائے میں اضافہ کرے اور اس اضافے کی ایک شرح لوگوں کی رقوم میں شامل کرتا رہے اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بیمہ اور انشورنس جان و زندگی کا ہو یا جائیداد و کاروبار کا، چونکہ براہ راست اس میں سود، جوا وغیرہ نہیں اور نہ ہی بیمہ ہولڈر کمپنی سے کوئی ایسا معاہدہ کرتا ہے جس میں کوئی غیر شرعی صورت پیدا ہو، پس ہمارے نزدیک یہ کاروبار اصلاً مفید اور شرعاً جائز ہے۔

رہ گیا یہ معاملہ کہ یہ کمپنیاں پریمیئر کی رقوم کو کہاں انوسٹ کرتی ہیں؟ تو ظاہر ہے کہ یہ انوسٹمنٹ زراعت، تجارت، صنعت وغیرہ جائز منصوبوں میں شرعی اصولوں کے مطابق بھی ہو سکتی ہے اور سود، جوا اور فحاشی کے شعبوں میں بھی، جو حرام ہے۔ اب جائز و ناجائز کا فرق کرنا متعلقہ کمپنیوں پر ہے۔ بیمہ ہولڈرز براہ راست کسی ناجائز کام میں ملوث نہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

انشورنش کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟