کیا بڑا بیٹا اپنی مرضی سے والد کا مال استعمال کر سکتا ہے؟

سوال نمبر:3480

السلام علیکم مفتی صاحب! میرے والد صاحب ابھی حیات ہیں، اللہ اُن کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے، ان کے نام کچھ زمین ہے۔ اس میں سے کچھ حصہ انہوں نے میرے چھوٹے بھائیوں کو گزر اوقات کے لیے دیا ہوا ہے، جبکہ باقی زمین میرے پاس ہے اور والد صاحب بھی میرے ساتھ رہتے ہیں۔ کیا میں اس زمین کی آمدنی سے حج یا عمرہ کر سکتا ہوں؟

کیا اس سے میرے چھوٹے بھائیوں کی حق تلفی تو نہیں ہوگی؟

  • سائل: نصر ت حسين جمالیمقام: ٹنڈو اللہ یار
  • تاریخ اشاعت: 29 جنوری 2015ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت  |  معاشرت

جواب:

اپنے سوال میں آپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آپ کے والد نے دوسرے بیٹوں کو بھی اتنی ہی زمین دی ہے جتنی آپ کو دی ہے؟ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ضروری ہے یہ تقسیم منصفانہ کی جائے، تاکہ کسی کے ساتھ ظلم نہ ہو۔ بہر حال آپ اس زمین کی کمائی سے حج یا عمرہ کر سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟