معصوم افراد کی جان خطرے میں‌ ڈالنے والے شخص کے بارے میں‌ شریعت کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3475

السلام علیکم! عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ شہر میں سڑک پر الٹی سمت میں گاڑی اور موٹر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ سڑک استعمال کرنے والے دوسرے افراد کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کافی لوگ اس طرح جان سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ایسے گاڑی چلانے کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟

  • سائل: محمّد یوسفمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 30 جنوری 2015ء

زمرہ: معاشرت  |  متفرق مسائل

جواب:

اﷲ تعالیٰ کا واضح حکم ہے:

 وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَo

اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اﷲ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔

البقرة، 2: 195

وَلَا تَقْتُلُوا اَنْفُسَکُمْ ط

اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو۔

النساء، 4: 29

زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت ہے، جان بوجھ کر اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔ لہٰذا اپنی یا دوسرے کی بےمقصد جان ضائع کرنا حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟